سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب فى تزويج المحرم:
احرام کی حالت میں شادی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1863
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: "تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ حَلَالًا، وَبَنَى بِهَا حَلَالًا، وَكُنْتُ الرَّسُولَ بَيْنَهُمَا".
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے (جب) نکاح کیا تو وہ بے احرام کے تھے اور (جب) صحبت کی تب بھی بے احرام کے تھے، اور میں ان دونوں کے بیچ میں پیغام رسانی کرنے والا تھا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1863]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1866] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 4130] ، [المعرفة للبيهقي 9749]
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ابن حبان 4130] ، [المعرفة للبيهقي 9749]
وضاحت: (تشریح حدیث 1862)
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بارے میں اختلاف ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہاں اور کس حالت میں نکاح کیا، تو صحیح یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مکہ کے راستے میں نکاح کیا تو بعض صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے احرام باندھنے سے قبل نکاح کیا لیکن یہ نکاح احرام باندھنے کے بعد مشہور ہوا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کھول چکے تب ان سے صحبت کی تھی مقامِ سرف میں جو مکہ سے دس میل کے فاصلے پر ہے (اتفاق ہے) سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے وہیں مقامِ سرف میں وفات پائی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صحبت کی تھی اور وہ وہیں دفن بھی کی گئیں۔
ان تمام احادیث سے ثابت ہوا کہ محرم حالتِ احرام میں نہ اپنا نکاح کر سکتا ہے نا کسی اور کا نکاح کرا سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اُم المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بارے میں اختلاف ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہاں اور کس حالت میں نکاح کیا، تو صحیح یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے مکہ کے راستے میں نکاح کیا تو بعض صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے احرام باندھنے سے قبل نکاح کیا لیکن یہ نکاح احرام باندھنے کے بعد مشہور ہوا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کھول چکے تب ان سے صحبت کی تھی مقامِ سرف میں جو مکہ سے دس میل کے فاصلے پر ہے (اتفاق ہے) سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے وہیں مقامِ سرف میں وفات پائی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صحبت کی تھی اور وہ وہیں دفن بھی کی گئیں۔
ان تمام احادیث سے ثابت ہوا کہ محرم حالتِ احرام میں نہ اپنا نکاح کر سکتا ہے نا کسی اور کا نکاح کرا سکتا ہے۔
واللہ اعلم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو رافع القبطي، أبو رافع | صحابي | |
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب سليمان بن يسار الهلالي ← أبو رافع القبطي | ثقة | |
👤←👥ربيعة الرأي، أبو عثمان، أبو عبد الرحمن ربيعة الرأي ← سليمان بن يسار الهلالي | ثقة | |
👤←👥مطر بن طهمان الوراق، أبو رجاء مطر بن طهمان الوراق ← ربيعة الرأي | وحديثه عن عطاء ضعيف، صدوق كثير الخطأ | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← مطر بن طهمان الوراق | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت |
سليمان بن يسار الهلالي ← أبو رافع القبطي