سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب:
ہر سوال کا جواب دے دینے والے مفتی کا بیان
حدیث نمبر: 187
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: "لَا عِلْمَ لِي، ثُمَّ الْتَفَتَ بَعْدَ أَنْ قَفَّي الرَّجُلُ، فَقَالَ: نِعْمَ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ! يُسْأَلُ عَمَّا لَا يَعْلَمُ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي"، يَعْنِي: ابْنُ عُمَرَ نَفْسَهُ.
نافع نے کہا: ایک آدمی آیا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، پھر جب وہ آدمی چلا گیا تو انہوں نے مڑ کر کہا: ابن عمر نے جو کہا وہ درست ہے۔ ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے جس کا انہیں علم نہیں تو انہوں نے کہہ دیا: مجھے معلوم نہیں (یعنی خود ان سے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 187]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 187] »
اس روایت کی سند حسن ہے، اوپر دوسری صحیح سند بھی گزر چکی ہے۔ دیکھئے رقم (185)
اس روایت کی سند حسن ہے، اوپر دوسری صحیح سند بھی گزر چکی ہے۔ دیکھئے رقم (185)
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي