🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب في الْحَجِّ عَنِ الْحَيِّ:
زندہ آدمی کی طرف سے حج کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1873
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ أَوْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي أَوْ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرٌ، إِنْ أَنَا حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ، وَإِنْ رَبَطْتُهَا، خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا. قَالَ:"أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ أَوْ أُمِّكَ دَيْنٌ، أَكُنْتَ تَقْضِيهِ؟". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ، أَوْ أُمِّكَ".
سیدنا فضل بن عباس یا سیدنا عبید الله بن عباس رضی اللہ عنہم نے بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میری ماں یا باپ بوڑھے ہیں، اگر انہیں سوار کروں تو ٹھیک سے بیٹھ نہیں سکیں گے اور سواری پر باندھ دوں تو ڈر ہے کہ مر نہ جائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری کیا رائے ہے، اگر تمہارے والد یا والدہ پر قرض ہو تو کیا تم ان کا قرض ادا کرو گے؟“ عرض کیا: بالکل ادا کروں گا، فرمایا: ”تب پھر اپنے والد یا والدہ کی طرف سے حج بھی کرو۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1873]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناد عبيد الله بن عباس صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1877] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند أحمد 212/1، 359] ، [مشكل الآثار للطحاوي 220/3]
وضاحت: (تشریح احادیث 1868 سے 1873)
ان احادیث سے ماں باپ کی طرف سے فریضۂ حج ادا کرنے کا ثبوت ملا خواہ وہ زندہ ہوں یا نہیں، وصیت کی ہو یا نہ کی ہو، ان کے لڑکے یا لڑکی کو چاہیے کہ وہ اگر حج نہیں کر سکتے تو اپنا حج ادا کرنے کے بعد ان کی طرف سے حج کر سکتا ہے۔
بعض علماء نے کہا: اگر وصیت کی ہو تب ہی ان کی طرف سے حج کرے، اور بعض علماء نے کہا کہ بلا وصیت بھی ان کی طرف سے حج کرنا درست ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ کا یہی مسلک ہے، اور راقم نے سماحۃ الشيخ ابن باز رحمہ اللہ سے بھی یہی سنا کہ ماں باپ کی طرف سے حج کرنا درست ہے۔
حج کی ایک قسم حجِ بدل ہے جو کسی معذور یا متوفی کی طرف سے نیابتاً کیا جاتا ہے، اس کی نیّت کرتے وقت لبیک کے ساتھ جس کی طرف سے حج کیا جا رہا ہے اس کا نام لیا جائے، مثلاً: «لبيك عن زيد نيابتةً» مگر حجِ بدل کے لئے ضروری ہے کہ حج کرنے والا پہلے خود اپنا حج ادا کر چکا ہو، جیسا کہ حدیث شبرمہ میں وضاحت ہے۔
والله اعلم۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناد عبيد الله بن عباس صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبيد الله بن العباس، أبو محمدصحابي
👤←👥الفضل بن العباس الهاشمي، أبو محمد، أبو العباس، أبو عبد الله
Newالفضل بن العباس الهاشمي ← عبيد الله بن العباس
صحابي
👤←👥سليمان بن يسار الهلالي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو أيوب
Newسليمان بن يسار الهلالي ← الفضل بن العباس الهاشمي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي إسحاق الحضرمي
Newيحيى بن أبي إسحاق الحضرمي ← سليمان بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← يحيى بن أبي إسحاق الحضرمي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة حافظ
Sunan Darmi Hadith 1873 in Urdu