🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. باب وقت الدفع من المزدلفة:
مزدلفہ سے منیٰ واپسی کا وقت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1928
أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَكَانُوا يَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ لَعَلَّنَا نُغِيرُ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ "فَدَفَعَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ بِقَدْرِ صَلَاةِ الْمُسْفِرِينَ أَوْ قَالَ: الْمُشْرِقِينَ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ".
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میں لوگ آفتاب طلوع ہونے کے بعد مزدلفہ سے منیٰ کے لئے روانہ ہوتے تھے یہ کہتے ہوئے اے ثبیر چمک جاتا کہ ہم روانہ ہو جائیں (ثبیر مزدلفہ کے ایک پہاڑ کا نام ہے جو منیٰ آتے ہوئے بائیں جانب واقع ہے) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مخالفت کرتے ہوئے جلدی نماز پڑھ کر طلوع آفتاب سے پہلے روانہ ہوئے۔ راوی کو شک ہے کہ «صلاة المسفرين» کہا یا «صلاة المشرقين» کہا نماز فجر کو۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1928]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1932] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1684] ، [أبوداؤد 1938] ، [ترمذي 896] ، [نسائي 3047] ، [ابن ماجه 3022] ، [الطيالسي 1069] ، [أحمد 29/1، 39، 42] ، [ابن خزيمه 2859]
وضاحت: (تشریح حدیث 1927)
بعض روایات میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صرف مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندھیرے میں بہت پہلے نمازِ فجر ادا کی، بعض علماء نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مزدلفہ کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز اجالا پھیل جانے پر ادا کرتے تھے اور یہ صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ مزدلفہ میں قدرے جلدی پڑھی، مزدلفہ کے علاوہ تھوڑی تأخیر کرتے تھے لیکن نماز ہمیشہ غلس یعنی اندھیرے ہی میں پڑھتے تھے حتیٰ کہ پاس بیٹھا آدمی یا چلتی ہوئی عورت پہچانی نہیں جاتی تھی، کیونکہ سورج نکلنے سے پہلے منیٰ جانا تھا اور رمی و قربانی کرنی تھی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اور جلدی پڑھی۔
(والله اعلم)۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عمرو بن ميمون الأودي، أبو يحيى، أبو عبد الله
Newعمرو بن ميمون الأودي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عمرو بن ميمون الأودي
ثقة مكثر
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← أبو إسحاق السبيعي
ثقة
👤←👥مالك بن إسماعيل النهدي، أبو غسان
Newمالك بن إسماعيل النهدي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة متقن صحيح الكتاب