🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. باب فى القران:
حج قران کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1961
أَخْبَرَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ شَهِدَ عَلِيًّا وَعُثْمَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ، "أَهَلَّ بِهِمَا جَمِيعًا، فَقَالَ: لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ مَعًا". فَقَالَ: تَرَانِي أَنْهَى عَنْهُ وَتَفْعَلُهُ؟ فَقَالَ: لَمْ أَكُنْ لِأَدَعَ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ.
مروان بن الحکم سے مروی ہے کہ انہوں نے سیدنا علی و سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کو مکہ و مدینہ کے درمیان دیکھا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے روکتے تھے، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھا تو انہوں نے حج قران کا احرام باندھ لیا اور «لبيك بحجة و عمرة» کہا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دیکھتے ہو کہ میں اس سے منع کر رہا ہوں پھر بھی تم ویسا ہی کرتے ہو؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں سے کسی کے کہنے سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو تو نہیں چھوڑ سکتا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1961]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1965] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث بھی متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1089، 1563] ، [مسلم 690] ، [أبويعلی 2794] ، [نسائي 2727] ، [ابن حبان 3930] ، [الحميدي 1249]
وضاحت: (تشریح حدیث 1960)
یہاں یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ دونوں خلیفۃ المسلمین میں بحث تو تمتع کے بارے میں تھی پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے قران کیا، اس کا جواب یہ ہے کہ قران اور تمتع دونوں میں نیّت حج اور عمرے کی ہوتی ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرح تمتع کو خلافِ اولی سمجھتے تھے یہ ان کا اجتہاد تھا، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾ [البقرة: 196] »
سیدنا عثمان و سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے اس مباحثے میں بہت سے فوائد ہیں، کچھ یہاں عرض کئے جاتے ہیں: اس مباحثے سے معلوم ہوا کہ جس کسی کے پاس علم ہو اس کی اشاعت کرنا، اور اہلِ اسلام کی خیر خواہی کے لئے امرِ حق کا اظہار کرنا، یہاں تک کہ اگر مسلمان حاکموں سے مناظرے تک کی نوبت پہنچ جائے تو یہ بھی کر ڈالنا، اور کسی امرِ حق کا محض بیان ہی نہ کرنا بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھلا دینا، اور نص سے کسی مسئلہ کا استنباط کرنا، کیونکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ چیز مخفی نہ تھی کہ حج تمتع اور قران بھی جائز ہیں مگر انہوں نے افضل پر عمل کرنے کے خیال سے تمتع سے منع فرمایا، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی واقع ہوا، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے اس پر محمول کیا کہ عوام الناس کہیں اس نہی کو تحریم پر محمول نہ کر بیٹھیں، اس لئے انہوں نے اس کے جواز کا اظہار فرمایا بلکہ عمل بھی کر کے دکھلا دیا، اس پر دونوں کو ہی اجتہاد کا اجر و ثواب ملے گا، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فروعی اختلافات پر ایک دوسرے کو برا بھلا کہنا درست نہیں، اس کی بہت سی مثالیں سلف صالحین سے مذکور ہیں (راز رحمۃ اللہ علیہ)۔
اللہ تعالیٰ سب کو وسعتِ قلبی اور باہمی عزت و احترام کی توفیق بخشے، آمین۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥مروان بن الحكم القرشي، أبو الحكم، أبو عبد الملك، أبو القاسم
Newمروان بن الحكم القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥علي زين العابدين، أبو محمد، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعلي زين العابدين ← مروان بن الحكم القرشي
ثقة ثبت
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← علي زين العابدين
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥سهل بن حماد العنقزي، أبو عتاب
Newسهل بن حماد العنقزي ← شعبة بن الحجاج العتكي
صدوق حسن الحديث