🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب فى الذبح قبل الإمام:
امام سے پہلے قربانی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2002
حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، أَنَّ رَجُلًا ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ".
سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے بعد گھر واپسی سے پہلے قربانی (ذبح کر دی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دوسری قربانی کرنے کا حکم دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2002]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2006] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے اس حدیث میں ایک شخص کے نماز سے پہلے قربانی کرنے کا ذکر کیا ہے اور اس کے فاعل غالباً وہ خود ہیں، یہ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ہیں۔ حوالہ دیکھئے: [بخاري 951، 955] ، [مسلم 1961] ، [الموطأ فى الأضاحي 4] ، [ابن حبان 5905]
وضاحت: (تشریح احادیث 2000 سے 2002)
پہلی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے نمازِ عید سے پہلے قربانی کر دی اور یہ اس لئے کہ سب سے پہلے قربانی کرنے والوں میں ان کا نام لکھا جائے، جیسا کہ بخاری کی روایت میں ہے۔
اور یہ چیز صحابۂ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کی اعمالِ صالحہ میں سبقت اور شدید حرص پر دلالت کرتی ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ کا اس حدیث کو یہاں ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص نماز اور امام سے پہلے قربانی کر دے اس کی قربانی درست نہیں، اس کو دوبارہ قربانی کرنی ہوگی، جیسا کہ دوسری روایت میں ہے۔
یہاں امام سے مراد خلیفہ اور حاکم ہے اور مقصد امام کی اتباع ہے جو اسلامی امور میں ہر لحظہ مطلوب ہے۔
موجودہ دور میں بھی اس پر عمل کیا جائے تو بہت اچھا ہے۔
ایک اور مسئلہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بکرے کی قربانی میں دانتا ہوا مسنہ ہونا چاہے، ایک سال کے بکری کے بچے کی قربانی کی اجازت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ کی مجبوری کی وجہ سے دی تھی، کیونکہ ان کے پاس اور قربانی کا جانور موجود نہ تھا، اور پھر یہ بھی وضاحت فرما دی کہ تمہارے بعد تمہارے علاوہ کسی اور کو ایک سال کے بکری کے بچے کی قربانی کی اجازت نہیں ہے۔
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں قربانی کرنے سے یہ ثابت ہوا کہ قربانی اپنے اپنے گھروں میں کرنی چاہیے، قربان گاہ یا عید گاہ کے آس پاس بھی کی جا سکتی ہے۔
لیکن ہڈی و گوشت وغیرہ راستے میں نہیں پھینکنے چاہئیں، اس میں نعمتِ الٰہی کی بے حرمتی بھی ہے اور راستہ چلنے والوں کو ایذا و تکلیف میں مبتلا کرنا بھی ہے جس کی شرعاً ممانعت ہے۔
واللہ اعلم۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥هانئ بن نيار البلوي، أبو بردةصحابي
👤←👥بشير بن يسار الحارثي، أبو كيسان
Newبشير بن يسار الحارثي ← هانئ بن نيار البلوي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← بشير بن يسار الحارثي
ثقة ثبت
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥عبيد الله بن عبد المجيد الحنفي، أبو علي
Newعبيد الله بن عبد المجيد الحنفي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 2002 in Urdu