سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب فى لحوم الحمر الأهلية:
پالتو گدھے کے گوشت کا بیان
حدیث نمبر: 2030
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُكِلَتْ الْحُمُرُ أَوْ أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ أَوْ أُكِلَتْ الْحُمُرُ،"فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَى إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ، فَإِنَّهَا رِجْسٌ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ خیبر کے دن ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! گدھے کھا لئے گئے، یا یہ کہا: گدھے (کھا کر) ختم کر دیئے گئے، پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! گدھے ختم کر دیئے گئے، یا کھا لئے گئے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو حکم دیا کہ اعلان کر دو: ”بیشک اللہ اور اس کا رسول دونوں تم کو پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ ناپاک ہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2030]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2034] »
یہ روایت صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2991، 4199] ، [مسلم 1940] ، [نسائي 69] ، [ابن ماجه 3196] ، [أبويعلی 2828] ، [ابن حبان 5274] ، [الحميدي 1234]
یہ روایت صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2991، 4199] ، [مسلم 1940] ، [نسائي 69] ، [ابن ماجه 3196] ، [أبويعلی 2828] ، [ابن حبان 5274] ، [الحميدي 1234]
وضاحت: (تشریح احادیث 2028 سے 2030)
ان احادیث سے متعہ اور گدھے کے گوشت کی حرمت ثابت ہوئی۔
نکاحِ متعہ یہ ہے کہ آدمی ایک وقتِ مقررہ تک کے لئے نکاح کر لے، جیسے ہفتہ، دس دن، ایک ماہ یا سال کے لئے، یہ شروع اسلام میں حلال تھا پھر قیامت تک کے لئے حرام قرار دیا گیا، آگے مزید تفصیل آ رہی ہے۔
اسی طرح گدھے کا گوشت حلال تھا، پھر قیامت تک کے لئے اس کا کھانا حرام کر دیا گیا۔
ان دونوں چیزوں میں جو لوگ حلت کے قائل ہیں ان کا استدلال صحیح نہیں اور حرمت کی دلیل واضح، صریح اور قوی ہے۔
واللہ اعلم۔
ان احادیث سے متعہ اور گدھے کے گوشت کی حرمت ثابت ہوئی۔
نکاحِ متعہ یہ ہے کہ آدمی ایک وقتِ مقررہ تک کے لئے نکاح کر لے، جیسے ہفتہ، دس دن، ایک ماہ یا سال کے لئے، یہ شروع اسلام میں حلال تھا پھر قیامت تک کے لئے حرام قرار دیا گیا، آگے مزید تفصیل آ رہی ہے۔
اسی طرح گدھے کا گوشت حلال تھا، پھر قیامت تک کے لئے اس کا کھانا حرام کر دیا گیا۔
ان دونوں چیزوں میں جو لوگ حلت کے قائل ہیں ان کا استدلال صحیح نہیں اور حرمت کی دلیل واضح، صریح اور قوی ہے۔
واللہ اعلم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله هشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة حافظ | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← هشام بن حسان الأزدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله محمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري | ثقة |
محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري