🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب فى أكل لحوم الخيل:
گھوڑے کا گوشت کھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2032
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، وَأَذِنَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا، اور گھوڑے کے گوشت (کو کھانے) کی اجازت دی۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2032]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2036] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 4219] ، [مسلم 1941] ، [أبوداؤد 3788] ، [ترمذي 1793] ، [نسائي 4338] ، [أبويعلی 1787] ، [ابن حبان 5268] ، [الحميدي 1291]
وضاحت: (تشریح احادیث 2030 سے 2032)
گھوڑے کا گوشت بلا کراہت جائز و حلال ہے مگر کیونکہ جہاد و سواری کے لئے اس کی ضرورت پڑتی تھی اس لئے اس کو کھانے کا عام معمول نہیں تھا، بعض فقہاء نے اس کو حرام اور بعض نے مکروہ کہا ہے لیکن راجح یہی ہے کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے جیسا کہ مذکورہ احادیث سے واضح ہے۔
واللہ اعلم۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفر
Newمحمد الباقر ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← محمد الباقر
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت تغير في آخر عمره