🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب فى اقتناء كلب الصيد أو الماشية:
شکار یا مویشی کی حفاظت کے لئے کتا پالنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2045
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ:"مَا بَالِي وَلِلْكِلَابِ؟"، ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الرَّعْيِ وَكَلْبِ الصَّيْدِ.
سیدنا عبدالله بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: مجھے کتوں سے کیا غرض ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتی اور شکار کے کتے کو رکھنے کی اجازت دیدی۔ [سنن دارمي/من كتاب الصيد/حدیث: 2045]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2049] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 280، 1573] ، [أبوداؤد 73] ، [نسائي 67] ، [ابن ماجه 3200] ، [أحمد 86/4] ، [بغوي 2781]
وضاحت: (تشریح حدیث 2044)
«مَا بَالِىْ وَلِلْكِلَابِ» کا مطلب یہ ہے کہ کتا پالنا بے فائدہ بلکہ وہ نجس ہے، احتمال ہے کہ برتن یا کپڑے کو گندہ کر دے۔
رہا کتوں کو قتل کرنے کا معاملہ تو صرف کلب عقور کالا یا کٹ کھنا کتا مارنے کا حکم ہے، اور کھیتی، مویشی، شکار کے کتے اور ضرر نہ پہنچانے والے کتے مستثنیٰ ہیں۔
واللہ اعلم۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مغفل المزني، أبو سعيد، أبو عبد الرحمن، أبو زيادصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← عبد الله بن مغفل المزني
ثقة
👤←👥يزيد بن حميد الضبعي، أبو حماد، أبو التياح
Newيزيد بن حميد الضبعي ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← يزيد بن حميد الضبعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥وهب بن جرير الأزدي، أبو العباس، أبو الحسن
Newوهب بن جرير الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة