علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب فى قتل الكلاب:
کتوں کو مار ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 2047
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنْ الْأُمَمِ، لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا، وَلَكِنْ اقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ". قَالَ سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ: الْبَهِيمُ: الْأَسْوَدُ كُلُّهُ.
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر کتے امتوں میں سے ایک امت نہ ہوتے تو میں تمام کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتا لیکن اب تم صرف بالکل کالے کتے کو مار ڈالو۔“ سعید بن عامر نے کہا: «بهيم» وہ کتا ہے جو بالکل کالا ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الصيد/حدیث: 2047]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2051] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2845] ، [ترمذي 1486] ، [نسائي 4291] ، [ابن ماجه 3205] ، [ابن حبان 5650]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2845] ، [ترمذي 1486] ، [نسائي 4291] ، [ابن ماجه 3205] ، [ابن حبان 5650]
وضاحت: (تشریح احادیث 2045 سے 2047)
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: علماء کا اجماع ہے کہ کاٹنے والا کتا مار ڈالا جائے۔
امام الحرمین نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا پھر یہ منسوخ ہوگیا اور کالا سیاہ کتا اسی حکم پر باقی رہا۔
اس کے بعد یہ ٹھہرا کہ کس قسم کا کتا مارا جائے جب تک کہ وہ نقصان نہ پہنچا دے یہاں تک کہ کالا بھجنگ بھی، اور ثواب کم ہونے کا سبب یہ ہوگا کہ فرشتے اس گھر میں نہیں جا سکتے جس کے پاس کتا ہوتا ہے، اور بعض نے کہا کہ اس وجہ سے کہ لوگوں کو ایذا ہوتی ہے اس کے بھونکنے اور حملہ کرنے سے، اور یہ جو فرمایا کہ امّت نہ ہوتی امّتوں میں سے اس کا مطلب یہ ہے کہ کتا بھی ایک قسم کی نوع ہے، یعنی عالم کی قسم ہے اس کا فنا کرنا ممکن نہیں، اس لئے قتل کا حکم دینا بے کار ہے، کتنے ہی قتل کرو لیکن دنیا میں کتے ضرور باقی رہیں گے جب تک دنیا باقی ہے، آپ دیکھئے کہ سانپ اور بچھو، شیر اور بھیڑیئے لوگ صدہا ہزار سال سے جہاں پاتے ہیں مار ڈالتے ہیں اور صدہا ہزارہا روپیہ انعام ان کے مارنے پر دیا جاتا ہے مگر کیا یہ انواع دنیا سے مٹ گئیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: علماء کا اجماع ہے کہ کاٹنے والا کتا مار ڈالا جائے۔
امام الحرمین نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا پھر یہ منسوخ ہوگیا اور کالا سیاہ کتا اسی حکم پر باقی رہا۔
اس کے بعد یہ ٹھہرا کہ کس قسم کا کتا مارا جائے جب تک کہ وہ نقصان نہ پہنچا دے یہاں تک کہ کالا بھجنگ بھی، اور ثواب کم ہونے کا سبب یہ ہوگا کہ فرشتے اس گھر میں نہیں جا سکتے جس کے پاس کتا ہوتا ہے، اور بعض نے کہا کہ اس وجہ سے کہ لوگوں کو ایذا ہوتی ہے اس کے بھونکنے اور حملہ کرنے سے، اور یہ جو فرمایا کہ امّت نہ ہوتی امّتوں میں سے اس کا مطلب یہ ہے کہ کتا بھی ایک قسم کی نوع ہے، یعنی عالم کی قسم ہے اس کا فنا کرنا ممکن نہیں، اس لئے قتل کا حکم دینا بے کار ہے، کتنے ہی قتل کرو لیکن دنیا میں کتے ضرور باقی رہیں گے جب تک دنیا باقی ہے، آپ دیکھئے کہ سانپ اور بچھو، شیر اور بھیڑیئے لوگ صدہا ہزار سال سے جہاں پاتے ہیں مار ڈالتے ہیں اور صدہا ہزارہا روپیہ انعام ان کے مارنے پر دیا جاتا ہے مگر کیا یہ انواع دنیا سے مٹ گئیں؟ نہیں ہرگز نہیں۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مغفل المزني، أبو سعيد، أبو عبد الرحمن، أبو زياد | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← عبد الله بن مغفل المزني | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل عوف بن أبي جميلة الأعرابي ← الحسن البصري | صدوق رمي بالقدر والتشيع | |
👤←👥سعيد بن عامر الضبعي، أبو محمد سعيد بن عامر الضبعي ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي | ثقة |
Sunan Darmi Hadith 2047 in Urdu
الحسن البصري ← عبد الله بن مغفل المزني