سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب في الْمُطَلَّقَةِ ثَلاَثاً أَلَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ أَمْ لاَ:
مطلقہ ثلاثہ کے لئے سکن اور خرچہ ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 2311
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ: "أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَقَةً وَلَا سُكْنَى". قَالَ سَلَمَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا نَدَعُ كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ بِقَوْلِ امْرَأَةٍ، فَجَعَلَ لَهَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ.
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے ان کو تین طلاق دیدی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے سکنی دلایا اور نہ نفقہ۔ مسلمہ نے کہا: میں نے اس کا تذکرہ ابراہیم سے کیا تو انہوں نے کہا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اپنے رب کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو ایک عورت کے کہنے سے چھوڑ دیں گے؟ نہیں، چنانچہ انہوں نے مطلقہ عورت کے لئے سکنی اور نفقہ مقرر فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطلاق/حدیث: 2311]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2320] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1480] ، [أبوداؤد 2291] ، [ترمذي 1180] ، [نسائي 3403] ، [ابن ماجه 2035] ، [ابن حبان 4049] ، [موارد الظمآن 1242] ، [الحميدي 367]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1480] ، [أبوداؤد 2291] ، [ترمذي 1180] ، [نسائي 3403] ، [ابن ماجه 2035] ، [ابن حبان 4049] ، [موارد الظمآن 1242] ، [الحميدي 367]
وضاحت: (تشریح حدیث 2310)
سکنی: رہنے کی جگہ اور نفقہ: کھانے پینے کے خرچ کو کہتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مطلقہ ثلاثہ کے لئے کہا کہ اس کا شوہر اسے گھر بھی دے اور خرچہ بھی، عدت گزارنے کے بعد وہ آزاد ہو جائے گی اور شوہر سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دلیل یہ تھی: «﴿وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [البقرة: 241] » اور «﴿أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ﴾ [الطلاق: 6] » لیکن یہ طلاقِ رجعی والی عورت کے لئے ہے، جس کو تین طلاق ہوگئی ہو اس عورت کے لئے نان و نفقہ اور سکنی کچھ بھی نہیں یہی صحیح ہے۔
تفصیل آگے آتی ہے۔
سکنی: رہنے کی جگہ اور نفقہ: کھانے پینے کے خرچ کو کہتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مطلقہ ثلاثہ کے لئے کہا کہ اس کا شوہر اسے گھر بھی دے اور خرچہ بھی، عدت گزارنے کے بعد وہ آزاد ہو جائے گی اور شوہر سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دلیل یہ تھی: «﴿وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [البقرة: 241] » اور «﴿أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ﴾ [الطلاق: 6] » لیکن یہ طلاقِ رجعی والی عورت کے لئے ہے، جس کو تین طلاق ہوگئی ہو اس عورت کے لئے نان و نفقہ اور سکنی کچھ بھی نہیں یہی صحیح ہے۔
تفصیل آگے آتی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: حديث صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥فاطمة بنت قيس الفهرية | صحابية | |
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو عامر الشعبي ← فاطمة بنت قيس الفهرية | ثقة | |
👤←👥سلمة بن كهيل الحضرمي، أبو يحيى سلمة بن كهيل الحضرمي ← عامر الشعبي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سلمة بن كهيل الحضرمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله محمد بن يوسف الفريابي ← سفيان الثوري | ثقة |
Sunan Darmi Hadith 2311 in Urdu
عامر الشعبي ← فاطمة بنت قيس الفهرية