یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما يحل به دم المسلم:
جن چیزوں سے مسلمان کا قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 2334
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: بِكُفْرٍ بَعْدَ إِيمَانٍ، أَوْ بِزِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ، أَوْ يَقْتُلُ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيُقْتَلُ".
امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”مسلمان کا خون کرنا درست نہیں مگر تین باتوں میں سے ایک کے سبب، ایک تو ایمان کے بعد کفر کے سبب (یعنی مسلمان ہونے کے بعد پھر کافر ہو جائے)، یا شادی کے بعد زنا کرے (اس کو سنگسار کیا جائے گا)، یا وہ شخص جو ناحق کسی کو قتل کرے وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2334]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2343] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4502] ، [ترمذي 2158] ، [نسائي 4031] ، [ابن ماجه 2533] ، [ابن الجارود 836، وغيرهم]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4502] ، [ترمذي 2158] ، [نسائي 4031] ، [ابن ماجه 2533] ، [ابن الجارود 836، وغيرهم]
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عثمان بن عفان، أبو عمرو | صحابي | |
👤←👥أسعد بن سهل الأنصاري، أبو أمامة أسعد بن سهل الأنصاري ← عثمان بن عفان | له رؤية | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← أسعد بن سهل الأنصاري | ثقة ثبت | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← يحيى بن سعيد الأنصاري | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان محمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت تغير في آخر عمره |
Sunan Darmi Hadith 2334 in Urdu
أسعد بن سهل الأنصاري ← عثمان بن عفان