🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب السارق يوهب منه السرقة بعد ما سرق:
چوری کا مال برآمد کرنے کے بعد چور کو چھوڑ دیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2336
أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ وَهُوَ نَائِمٌ، فَاسْتَلَّ رِدَاءَهُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِهِ، فتَنَبَّهَ بِهِ، فَلَحِقَهُ فَأَخَذَهُ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَانِي هَذَا فَاسْتَلَّ رِدَائِي مِنْ تَحْتِ رَأْسِي، فَلَحِقْتُهُ فَأَخَذْتُهُ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رِدَائِي لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يُقْطَعَ فِيهِ هَذَا؟ قَالَ: "فَهَلَّا، قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ؟".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: (سیدنا) صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ مسجد میں سوئے ہوئے تھے کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور ان کے سر کے نیچے سے ان کی چادر کھینچ لے گیا تو صفوان جاگ گئے، اس کے پیچھے دوڑے اور اس چور کو پکڑ لیا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں مسجد میں سویا ہوا تھا یہ شخص آیا اور میرے سر کے نیچے سے میری چادر کھینچ لے گیا، میں نے بھاگ کر اس کو پکڑ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر اس (چور) کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری چادر اتنی قیمتی نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے اس غریب کا ہاتھ کاٹا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر معاف کرنا تھا تو میرے پاس اس کو لانے سے پہلے ہی کر دیا ہوتا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2336]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أشعث وهو: ابن سوار، [مكتبه الشامله نمبر: 2345] »
اس روایت کی سند اشعث بن سوار کی وجہ سے ضعیف ہے لیکن دوسری اسانید سے یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4394] ، [نسائي 4893، 4896، 4898] ، [أحمد 466/6] ، [طبراني 55/8، 7326، 7327] ، [الحاكم 380/4، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2335)
چوری کرنا حرام ہے اور جو شخص مالِ محفوظ کی قیمتی چیز چرائے قرآنی حکم کے مطابق اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا: «﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا ....﴾ [المائده: 38] » لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ قیمتی چیز ہو اور محفوظ جگہ سے چرائی گئی ہو۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب معاملہ قاضی یا حاکم تک پہنچ جائے اور جرم ثابت ہو جائے تو پھر اس پر حد جاری کی جائے گی، اور اگر صاحبِ مال حاکم کے پاس جانے سے پہلے چور کو معاف کر دے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ میرے پاس آنے سے پہلے معاف کیوں نہیں کر دیا تھا۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥أشعث بن سوار الكندي
Newأشعث بن سوار الكندي ← عكرمة مولى ابن عباس
ضعيف الحديث
👤←👥شيبان بن عبد الرحمن التميمي، أبو معاوية
Newشيبان بن عبد الرحمن التميمي ← أشعث بن سوار الكندي
ثقة
👤←👥سعد بن حفص الضخم، أبو محمد
Newسعد بن حفص الضخم ← شيبان بن عبد الرحمن التميمي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 2336 in Urdu