سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. باب من اطلع فى دار قوم بغير إذنهم:
کوئی آدمی کسی کے گھر میں بلا اجازت جھانکے اس کا بیان
حدیث نمبر: 2422
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَةٍ وَمَعَهُ مِدْرى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، اطَّلَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَقُمْتُ حَتَّى أَطْعَنَ بِهِ عَيْنَيْكَ. إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ".
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرے میں لوہے کے کنگھے سے بال جھاڑ رہے تھے کہ ایک صحابی اندر جھانکنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں کھڑا ہو کر اس کنگھے کو تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا، اجازت لینے کا نظر ہی کی وجہ سے حکم دیا گیا ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2422]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2430] »
اس حدیث کا حوالہ اوپر گذر چکا ہے۔
اس حدیث کا حوالہ اوپر گذر چکا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 2420 سے 2422)
جب بغیر اجازت دیکھ لیا تو پھر اذن و اجازت کی کیا ضرورت رہی۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا کچھ پھینک کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو اس گھر والے کو کچھ تاوان نہیں دینا ہوگا، بلا اجازت تاک جھانک کی یہ بہت بھیانک سزا ہے، لہٰذا کسی کے گھر میں بلا اجازت نظر ڈالنا یا داخل ہونا منع ہے، اس لئے کسی بھی غیر کے گھر میں اجازت لے کر، سلام کر کے داخل ہونا چاہئے یہ اسلامی آداب میں سے ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ......﴾ [النور: 27] » ترجمہ: ”اے مومنو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں رہنے والوں کو سلام کرو۔
“
جب بغیر اجازت دیکھ لیا تو پھر اذن و اجازت کی کیا ضرورت رہی۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا کچھ پھینک کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو اس گھر والے کو کچھ تاوان نہیں دینا ہوگا، بلا اجازت تاک جھانک کی یہ بہت بھیانک سزا ہے، لہٰذا کسی کے گھر میں بلا اجازت نظر ڈالنا یا داخل ہونا منع ہے، اس لئے کسی بھی غیر کے گھر میں اجازت لے کر، سلام کر کے داخل ہونا چاہئے یہ اسلامی آداب میں سے ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ......﴾ [النور: 27] » ترجمہ: ”اے مومنو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں رہنے والوں کو سلام کرو۔
“
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيى | صحابي | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سهل بن سعد الساعدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث محمد بن أبي ذئب العامري ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة فقيه فاضل | |
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد عبيد الله بن موسى العبسي ← محمد بن أبي ذئب العامري | ثقة يتشيع |
محمد بن شهاب الزهري ← سهل بن سعد الساعدي