علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب: لا يقتل قرشي صبرا :
قبیلہ قریش کا کوئی آدمی باندھ کر نہ مارا جائے
حدیث نمبر: 2424
حَدَّثَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، سَمِعْتُ مُطِيعًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ........ فَذَكَرَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: فَسَّرُوا ذَلِكَ: أَنْ لَا يُقْتَلَ قُرَشِيٌّ عَلَى الْكُفْرِ يَعْنِي: لَا يَكُونُ هَذَا أَنْ يَكْفُرَ قُرَشِيٌّ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَأَمَّا فِي الْقَوَدِ، فَيُقْتَلُ.
سیدنا مطیع رضی اللہ عنہ سے ایسے ہی مروی ہے ترجمہ وہی ہے جو اوپر ذکر کیا جا چکا ہے۔
امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: مذکورہ بالا حدیث کی تفسیر میں علماء نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب قریشی مسلمان ہو جائیں گے اور کوئی بھی کفر پر نہیں مرے گا، یعنی آج کے بعد سے کوئی قریشی کافر نہ رہے گا اور جرم کرے تو قتل کیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2424]
امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: مذکورہ بالا حدیث کی تفسیر میں علماء نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سب قریشی مسلمان ہو جائیں گے اور کوئی بھی کفر پر نہیں مرے گا، یعنی آج کے بعد سے کوئی قریشی کافر نہ رہے گا اور جرم کرے تو قتل کیا جائے گا۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2424]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2432] »
اس روایت کی سند و تخریج اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
اس روایت کی سند و تخریج اوپر ذکر کی جا چکی ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 2423)
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث «لَا يُقْتَلَ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هٰذَا الْيَوْمِ» کا مطلب یہ ہے کہ قریش مسلمان ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی اسلام سے نہ پھرے گا «كماقال الدارمي رحمه اللّٰه» اور کفر کی وجہ سے باندھ کر نہ مارا جائے گا۔
ایک روایت میں ہے کہ ابن خطل ایک کافر تھا، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے بہت رنج دیا، مسلمان ہو کر مرتد ہوا، فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبرلگی کہ وہ کعبہ کے پردوں میں چھپا بیٹھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پکڑ لاؤ۔
“ لوگ اسے مشکیں باندھ کر لائے اور وہ قتل کر دیا گیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر نہ مارا جائے گا۔
“
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث «لَا يُقْتَلَ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هٰذَا الْيَوْمِ» کا مطلب یہ ہے کہ قریش مسلمان ہو جائیں گے اور ان میں سے کوئی اسلام سے نہ پھرے گا «كماقال الدارمي رحمه اللّٰه» اور کفر کی وجہ سے باندھ کر نہ مارا جائے گا۔
ایک روایت میں ہے کہ ابن خطل ایک کافر تھا، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے بہت رنج دیا، مسلمان ہو کر مرتد ہوا، فتح مکہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبرلگی کہ وہ کعبہ کے پردوں میں چھپا بیٹھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پکڑ لاؤ۔
“ لوگ اسے مشکیں باندھ کر لائے اور وہ قتل کر دیا گیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی باندھ کر نہ مارا جائے گا۔
“
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥مطيع بن الأسود القرشي، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن مطيع العدوي عبد الله بن مطيع العدوي ← مطيع بن الأسود القرشي | له رؤية | |
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو عامر الشعبي ← عبد الله بن مطيع العدوي | ثقة | |
👤←👥زكريا بن أبي زائدة الوادعي، أبو يحيى زكريا بن أبي زائدة الوادعي ← عامر الشعبي | ثقة | |
👤←👥يعلى بن عبيد الطناقسي، أبو يوسف يعلى بن عبيد الطناقسي ← زكريا بن أبي زائدة الوادعي | ثقة إلا في حديثه عن الثوري ففيه لين |
Sunan Darmi Hadith 2424 in Urdu
عبد الله بن مطيع العدوي ← مطيع بن الأسود القرشي