🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب سهم ذي القربى:
جنگ میں قرابت داروں کے حصے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2507
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ بَنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ:"إِنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ، وَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا".
یزید بن ہرمز نے کہا: نجده بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس لکھ کر کچھ چیزوں کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا، چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں لکھا کہ تم نے قرابت داروں کے حصے کے بارے میں دریافت کیا ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (قرآن میں) کیا ہے؟ ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار وہی رشتہ دار ہیں (یعنی ہم لوگ) لیکن ہماری قوم نے اس کا انکار کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2507]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأبو النعمان هو: محمد بن الفضل، [مكتبه الشامله نمبر: 2514] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1812] ، [أبوداؤد 2727] ، [ترمذي 1556] ، [أبويعلی 2550] ، [ابن حبان 4824] ، [الحميدي 542]
وضاحت: (تشریح حدیث 2506)
مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ الله، اور اس کے رسول، اور ان کے قرابت داروں کا ہے، اور باقی چار حصے مجاہدین کے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ [الأنفال: 41] » اس آیت میں ذی القربیٰ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناطے دار، سیدنا عباس اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہم ہیں، لیکن نسائی شریف میں مزید وضاحت ہے: «كَتَبْتَ تَسْأَلُنِيْ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَىٰ لِمَنْ هُوَ؟ وَهُوَ لَنَا أَهْلُ الْبَيْتِ .....» نیز اس میں تفصیل ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مالِ غنیمت کے لئے ہمیں بلایا اور ہمارے حق سے کم دینا چاہا تو ہم نے (اہلِ بیت نے) اس کے لینے سے انکار کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سہم خلیفہ اور بیت المال کے لئے ہے۔
لیکن سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے لینے سے انکار کر دیا تھا۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥يزيد بن هرمز الليثي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newيزيد بن هرمز الليثي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥قيس بن سعد الحبشي، أبو عبد الملك، أبو عبد الله
Newقيس بن سعد الحبشي ← يزيد بن هرمز الليثي
ثقة
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← قيس بن سعد الحبشي
ثقة
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة ثبت تغير في آخر عمره
Sunan Darmi Hadith 2507 in Urdu