🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب فى استبراء الأمة:
لونڈی کے استبراء رحم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2513
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ مَوْلًى لِتُجِيبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَنَشٌ الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: غَزَوْنَا الْمَغْرِبَ وَعَلَيْنَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ فَافْتَتَحْنَا قَرْيَةً يُقَالُ لَهَا: جَرْبَةَ، فَقَامَ فِينَا رُوَيْفِعُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنِّي لَا أَقُومُ فِيكُمْ إِلَّا بما سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَامَ فِينَا يَوْمَ خَيْبَرَ حِينَ افْتَتَحْنَاهَا، فَقَالَ: "مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَأْتِيَنَّ شَيْئًا مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا".
حنش الصنعانی نے بیان کیا: ہم نے مغرب کا جہاد کیا اور ہمارے امیرِ لشکر سیدنا رويفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ ہم نے ایک گاؤں فتح کیا جس کو جربہ کہا جا تا تھا، پس سیدنا رويفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان خطيب بن کر کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہارے درمیان اس واسطے کھڑا ہوا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب ہم نے خیبر فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے در میان کھڑے ہوئے اور فرمایا: جو شخص الله تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ قیدی عورتوں سے صحبت نہ کرے جب تک کہ استبراء نہ کر لے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2513]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2520] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1441] ، [أبوداؤد 2156] ، [ابن حبان 4850] ، [الموارد 1675]
وضاحت: (تشریح حدیث 2512)
استبراء سے مراد رحم کی صفائی ہے۔
مطلب یہ کہ شادی شدہ عورت سے اس وقت تک جماع کرنا درست نہیں جب تک کہ اسے ایک حیض نہ آ جائے، اس کے بعد جماع کر سکتا ہے۔
مبادا وہ قیدی عورت حاملہ نہ ہو، کیونکہ حاملہ سے وطی و صحبت جائز نہیں۔
ابوداؤد میں ہے: «لَا يَحِلُّ لِامْرِىءٍ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقٰى مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ (يعني إتيان الحبلى). [أبوداؤد فى النكاح، باب وطى السبايا] »
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنگ میں جو عورتیں گرفتار ہوں، ان کی گرفتاری سے پہلا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، حمل سے ہوں تو وضع حمل کے بعد، اور حاملہ نہ ہوں تو ایک ماہواری کے بعد لطفِ صحبت اٹھایا جا سکتا ہے، یہ کوئی ضروری نہیں کہ وہ مسلمان بھی ہوں، با قاعدہ سرکاری تقسیم کے بعد جو لونڈی جس کے حصہ میں آئے وہ اس سے بعینہ اسی طرح لطف اٹھا سکتا ہے جس طرح اپنی منکوحہ بیوی سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔
(مبارکپوری رحمہ اللہ)۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رويفع بن ثابت الأنصاريصحابي
👤←👥حنش الصنعاني، أبو رشدين
Newحنش الصنعاني ← رويفع بن ثابت الأنصاري
ثقة
👤←👥ربيعة بن سليم التجيبى، أبو مرزوق
Newربيعة بن سليم التجيبى ← حنش الصنعاني
ثقة
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← ربيعة بن سليم التجيبى
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← يزيد بن قيس الأزدي
صدوق مدلس
👤←👥أحمد بن خالد الوهبي، أبو سعيد
Newأحمد بن خالد الوهبي ← ابن إسحاق القرشي
صدوق حسن الحديث
Sunan Darmi Hadith 2513 in Urdu