🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. باب: «لاَ هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ»:
فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2548
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا استُنْفِرْتُمْ، فَانْفِرُوا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس فتح کے بعد (مکہ سے) ہجرت نہیں ہے لیکن (اچھی) نیت اور جہاد اب بھی باقی ہے (اس لئے) جب تم کو جہاد کے لئے بلایا جائے تو نکل پڑو۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2548]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2554] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1834] ، [مسلم 1353] ، [أبوداؤد 2018] ، [ترمذي 1590] ، [نسائي 2874] ، [أبويعلی 4952] ، [ابن حبان 4592] ، [شرح السنة للبغوى 2636]
وضاحت: (تشریح حدیث 2547)
عہدِ رسالت میں ہجرت کا سلسلہ فتح مکہ پر ختم ہو گیا تھا، کیونکہ مکۃ المکرّمہ اب دار الاسلام بن گیا اور مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ وہاں رہنا نصیب ہوگیا، لیکن یہ حکم قیامت تک کے لئے باقی ہے کہ کسی زمانہ میں کسی بھی دار الحرب سے بوقتِ ضرورت مسلمان دارالاسلام کی طرف ہجرت کر سکتے ہیں، اس لئے فرمایا: اپنے دین و ایمان کو بہرحال محفوظ رکھنے کے لئے حسنِ نیت رکھنا ہر زمانہ میں ہر جگہ ہر وقت باقی ہے، ساتھ ہی سلسلۂ جہاد بھی قیامت تک کے لئے باقی ہے، جب بھی کسی جگہ کفر اور اسلام کی معرکہ آرائی ہو اور سربراہ جہاد کے لئے اعلان کرے تو ہر مسلمان کے لئے اس کے اعلان پر لبیک کہنا فرض ہو جاتا ہے، جب مکۃ المکرّمہ فتح ہوا تھوڑی دیر کے لئے مدافعانہ جنگ کی الله تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملی تھی جو وہاں استحکامِ امن کے لئے ضروری تھی، بعد میں وہ اجازت جلد ہی ختم ہوگئی، اور اب مکہ شریف میں جنگ کرنا ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔
مکہ ہمیشہ کے لئے دار الامن ہے۔
قیامت تک اسی حیثیت میں رہے گا۔
(راز رحمہ اللہ)۔

الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥طاوس بن كيسان اليماني، أبو عبد الرحمن
Newطاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة إمام فاضل
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← طاوس بن كيسان اليماني
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة ثبت
👤←👥إسرائيل بن يونس السبيعي، أبو يوسف
Newإسرائيل بن يونس السبيعي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن موسى العبسي، أبو محمد
Newعبيد الله بن موسى العبسي ← إسرائيل بن يونس السبيعي
ثقة يتشيع
Sunan Darmi Hadith 2548 in Urdu