سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب فى فضل أسلم وغفار:
قبیلہ اسلم و غفار کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2561
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ”غفار الله تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور اسلم اللہ تعالیٰ ان کو سلامت رکھے اور قبیلہ عصیہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔“ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2561]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2567] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3513] ، [مسلم 2518] ، [ترمذي 3941] ، [ابن حبان 7289] ، [شرح السنة للبغوي 3851، 3852]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3513] ، [مسلم 2518] ، [ترمذي 3941] ، [ابن حبان 7289] ، [شرح السنة للبغوي 3851، 3852]
وضاحت: (تشریح حدیث 2560)
قبیلہ غفار کے لوگ زمانۂ جاہلیت میں حاجیوں کا مال چراتے، چوری کرتے تھے، اسلام لانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو معاف کر دیا، اور قبیلہ عصیہ والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کر کے غداری کی اور بئر معونہ والوں کو شہید کر دیا تھا۔
اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ اور اشجع بڑے قبائل تھے، ان کے اسلام لانے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے قبیلے خود بخود مشرف بالاسلام ہوئے اس لئے بھی ان کی فضیلت بڑھ جاتی ہے۔
قبیلہ غفار کے لوگ زمانۂ جاہلیت میں حاجیوں کا مال چراتے، چوری کرتے تھے، اسلام لانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو معاف کر دیا، اور قبیلہ عصیہ والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کر کے غداری کی اور بئر معونہ والوں کو شہید کر دیا تھا۔
اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ اور اشجع بڑے قبائل تھے، ان کے اسلام لانے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے قبیلے خود بخود مشرف بالاسلام ہوئے اس لئے بھی ان کی فضیلت بڑھ جاتی ہے۔
الرواة الحديث:
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي