سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب فى الربا الذى كان فى الجاهلية:
اس سود کا بیان جو زمانہ جاہلیت میں تھا
حدیث نمبر: 2570
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: كُنْتُ آخِذًا بِزِمَامِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ أَذُودُ النَّاسَ عَنْهُ، فَقَالَ: "أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ قَضَى أَنَّ أَوَّلَ رِبًا يُوضَعُ رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ".
ابوحرة رقاشی نے اپنے چچا سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: میں ایامِ تشریق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہٹا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”سنو لوگو! جاہلیت کا ہر قسم کا سود لغو اور معاف ہے۔ سنو! بیشک الله تعالیٰ نے فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ پہلا سود عباس بن عبدالمطلب کا معاف کیا جاتا ہے۔ تمہارے لئے تمہارے اصل مال ہیں (یعنی اصل مال لے لو) نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔“ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2570]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2576] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن صحیح شواہد کے پیشِ نظر حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3334] ، [ترمذي 3087] ، [ابن ماجه 3055] ، [أبويعلی 1569] ، [مجمع الزوائد 5692، 6660]
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن صحیح شواہد کے پیشِ نظر حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3334] ، [ترمذي 3087] ، [ابن ماجه 3055] ، [أبويعلی 1569] ، [مجمع الزوائد 5692، 6660]
وضاحت: (تشریح حدیث 2569)
زمانۂ جاہلیت میں سود کا لین دین کیا جاتا تھا جس کو الله تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حرام قرار دے دیا۔
انسان اگر کسی کو قرض دے تو اپنا اصل مال اس سے واپس لے، اس کے ساتھ سود نہ لے کیوں کہ سود حرام ہے۔
اس کی تفصیل آگے احادیث میں آ رہی ہے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [البقرة: 278] » ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔
“ اور یہ آخری آیات میں سے ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں نازل ہوئی۔
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً﴾ [آل عمران: 130] » ”اے مومنو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ۔
“
زمانۂ جاہلیت میں سود کا لین دین کیا جاتا تھا جس کو الله تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں حرام قرار دے دیا۔
انسان اگر کسی کو قرض دے تو اپنا اصل مال اس سے واپس لے، اس کے ساتھ سود نہ لے کیوں کہ سود حرام ہے۔
اس کی تفصیل آگے احادیث میں آ رہی ہے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [البقرة: 278] » ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔
“ اور یہ آخری آیات میں سے ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں نازل ہوئی۔
اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً﴾ [آل عمران: 130] » ”اے مومنو! بڑھا چڑھا کر سود نہ کھاؤ۔
“
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عم أبي حرة الرقاشي | صحابي | |
👤←👥أبو حرة الرقاشي، أبو حرة أبو حرة الرقاشي ← عم أبي حرة الرقاشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن علي بن زيد القرشي ← أبو حرة الرقاشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← علي بن زيد القرشي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥الحجاج بن المنهال الأنماطي، أبو محمد الحجاج بن المنهال الأنماطي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة |
أبو حرة الرقاشي ← عم أبي حرة الرقاشي