سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب العمل بالعلم وحسن النية فيه:
علم کے ساتھ عمل اور اس میں حسن نیت کا بیان
حدیث نمبر: 259
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ، أَنَّ اللَّهَ قَالَ: "أَبُثُّ الْعِلْمَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ حَتَّى يَعْلَمَهُ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ، وَالْعَبْدُ وَالْحُرُّ، وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ، فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ بِهِمْ، أَخَذْتُهُمْ بِحَقِّي عَلَيْهِمْ".
ابوزاہریہ (حدیر بن کریب) نے مرفوعاً روایت کیا: الله تعالیٰ نے فرمایا: ”میں آخری زمانے میں علم کو پھیلاؤں گا یہاں تک کہ مرد، عورت، غلام اور آزاد، چھوٹے اور بڑے سب علم حاصل کریں گے، پھر جب ایسا کر لوں گا تو میں انہیں اپنے حق کے عوض پکڑ لوں گا۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 259]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى أبي الزاهرية حدير بن كريب وهو مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 259] »
یہ مرسل روایت ہے اور سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1210] ، [حلية الأولياء 100/6]
یہ مرسل روایت ہے اور سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1210] ، [حلية الأولياء 100/6]
وضاحت: (تشریح حدیث 258)
جیسا کہ آیتِ شریفہ میں ہے: «﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا﴾ [الإسراء: 15] » یعنی اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کا عذاب حجت تمام ہونے کے بعد ہی آتی ہے جو وہ رسول بھیج کر پوری فرماتا ہے۔
جیسا کہ آیتِ شریفہ میں ہے: «﴿وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا﴾ [الإسراء: 15] » یعنی اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور اس کا عذاب حجت تمام ہونے کے بعد ہی آتی ہے جو وہ رسول بھیج کر پوری فرماتا ہے۔
الرواة الحديث:
معاوية بن صالح الحضرمي ← حدير بن كريب الحضرمي