🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب فى الصلاة على من مات وعليه دين:
جس میت پر قرض ہو اس پر نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2629
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ , وَأَبُو الْوَلِيدِ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا". قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:"بِالْوَفَاءِ؟". قَالَ:"بِالْوَفَاءِ". قَالَ: فَصَلَّى عَلَيْهِ.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر نماز پڑھ دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھی پرتم نماز پڑھ لو کیونکہ اس پر قرض ہے۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ قرض یا رسول اللہ میرے ذمے ہے (یعنی میں ادا کر دوں گا)۔ فرمایا: پورا ادا کرو گے۔ عرض کیا: پورا ادا کروں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نمازِ جنازہ پڑھی۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2629]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2635] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھے: [ترمذي 1069] ، [نسائي 1959] ، [ابن ماجه 2407] ، [ابن حبان 3058] ، [موارد الظمآن 1159]
وضاحت: (تشریح حدیث 2628)
معلوم ہوا قرض بہت بری بلا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ سے نماز پڑھنے میں تأمل کیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ بہت ہی رحم دل اور خیر خواہ تھے۔
بعض علماء نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کے طور پر ایسا کیا تاکہ دوسرے لوگ قرض کی ادائیگی کا خوب خیال رکھیں، اور یہ قرض ایسی بلا ہے کہ شہداء کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے لیکن قرض معاف نہ ہوگا، کیونکہ یہ حقوق العباد میں سے ہے۔
علماء نے کہا: اس حدیث سے یہ نکلا کہ امام کو جائز ہے بعض مردوں پر جن سے گناہ سرزد ہوا ہو نماز نہ پڑ ھے دوسرے لوگوں کو ڈرانے کے لئے، لیکن دوسرے لوگ نماز پڑھ لیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: تم لوگ اس پر نماز پڑھ لو۔
اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ میت کی طرف سے ضمانت درست ہے، اور اس کی طرف سے قرض کی ادائیگی بڑا کارِ ثواب ہے۔
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري، أبو إبراهيم، أبو يحيى
Newعبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥عثمان بن عبد الله التميمي، أبو عبد الله
Newعثمان بن عبد الله التميمي ← عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عثمان بن عبد الله التميمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
👤←👥سعيد بن عامر الضبعي، أبو محمد
Newسعيد بن عامر الضبعي ← هشام بن عبد الملك الباهلي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 2629 in Urdu