🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. باب فى اللقطة:
گری پڑی چیز کو اٹھانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2635
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا . أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عَمْرٍو وَعَاصِمٍ ابْنَيْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ الثَّقَفِيِّ: أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَجَدَ عَيْبَةً فَأَتَى بِهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: "عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ عُرِفَتْ، فَذَاكَ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ، فَلَمْ تُعْرَفْ، فَلَقِيَهُ بِهَا فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي الْمَوْسِمِ فَذَكَرَهَا لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: هِيَ لَكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ". قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي بِهَا. فَقَبَضَهَا عُمَرُ، فَجَعَلَهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ.
سفیان بن عبداللہ الثقفی کے بیٹے عمرو اور عاصم سے مروی ہے کہ ان کے والد سفيان بن عبداللہ کو چمڑے کی ایک تھیلی ملی، وہ اسے لے کر امیر المومنین سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو اور پہچان لی جائے تو ٹھیک ہے (یعنی اس کا مالک اسے پہچان لے تو اسے دے دو)، نہ پہچانی جائے تو یہ تمہارے لئے ہے۔ اگلے سال اس کو لے کر پھر سفیان نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور اس کا تذکرہ کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تمہاری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گری پڑی چیز کے بارے میں یہی حکم دیا ہے۔ سفیان نے کہا: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے لے کر بیت المال میں داخل کرا دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2635]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد وأبو أسامة هو: حماد بن أسامة، [مكتبه الشامله نمبر: 2641] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ ابواسامہ کا نام حماد بن اسامہ ہے۔ دیکھئے: [شرح معاني الآثار 137/4] ، [نسائي فى الكبرىٰ 5818] ، [مشكل الآثار 4698] ، [بيهقي 187/6] ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جس حدیث کا حوالہ دیا اس کے لئے دیکھئے: [بخاري 2437]
وضاحت: (تشریح حدیث 2634)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گری پڑی چیز ایک سال تک رکھی جائے، اور جہاں ملی ہے وہیں ایک سال تک اعلان کیا جائے۔
اس کا مالک آجائے تو اس کو دیدی جائے، ایک سال کے بعد پانے والا تصرف کر سکتا ہے۔
بعض علماء نے کہا ہے کہ روپے پیسے وغیرہ ہوں تو اس کو استعمال کرے اور جب بھی اس کا مالک آجائے وہ قیمت اسے ادا کر دے، جیسا کہ بخاری شریف میں وضاحت ہے۔
دیکھئے: [بخاري: 2427] ۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عاصم بن سفيان الثقفي
Newعاصم بن سفيان الثقفي ← عمر بن الخطاب العدوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن سفيان الثقفي
Newعمرو بن سفيان الثقفي ← عاصم بن سفيان الثقفي
مقبول
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← عمرو بن سفيان الثقفي
ثقة
👤←👥الوليد بن كثير القرشي، أبو محمد
Newالوليد بن كثير القرشي ← عمرو بن شعيب القرشي
ثقة
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← الوليد بن كثير القرشي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ
Sunan Darmi Hadith 2635 in Urdu