الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
73. باب فى النهي عن المزارعة بالثلث والربع:
دو یا تین سال کے لئے زمین بیچنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2653
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوُ ثَلَاثًا".
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی زمین دو یا تین سال کے لئے بیچنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2653]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2659] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1536] ، [أحمد 338/3-395] ، [أبويعلی 1806] ، [ابن حبان 4992] ، [الحميدي 1292]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1536] ، [أحمد 338/3-395] ، [أبويعلی 1806] ، [ابن حبان 4992] ، [الحميدي 1292]
وضاحت: (تشریح حدیث 2652)
اس کا مطلب یہ ہے: کوئی شخص خالی زمین یا درختوں کے پھل دو یا تین برس کے لئے بیچے، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس کی وضاحت موجود ہے، نیز اس کو بیع معاومہ بھی کہتے ہیں جو بالاجماع باطل ہے، اس لئے کہ اس میں دھوکہ ہے، شاید وہ درخت پھل نہ دے، یا کھیتی کی پیداوار نہ ہو، یا ہو سکتا ہے اور کوئی آفت آجائے۔
اس کا مطلب یہ ہے: کوئی شخص خالی زمین یا درختوں کے پھل دو یا تین برس کے لئے بیچے، جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس کی وضاحت موجود ہے، نیز اس کو بیع معاومہ بھی کہتے ہیں جو بالاجماع باطل ہے، اس لئے کہ اس میں دھوکہ ہے، شاید وہ درخت پھل نہ دے، یا کھیتی کی پیداوار نہ ہو، یا ہو سکتا ہے اور کوئی آفت آجائے۔
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري