علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب فى رد السلام على أهل الكتاب:
اہل کتاب کے سلام کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2671
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمَ أَحَدُهُمْ، فَإِنَّمَا يَقُولُ: السَّامُ عَلَيْكَ. قُلْ: عَلَيْكَ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودیوں میں سے کوئی جب سلام کرتا ہے تو کہتا ہے «السام عليك» تمہیں موت آئے (سو) تم جواب میں کہو: «عليك» یعنی تمہارے ہی اوپر موت پڑے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2671]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي وهو عند مالك في كتاب السلام، [مكتبه الشامله نمبر: 2677] »
اس روایت کی سند بہت قوی ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6257] ، [مسلم 2164] ، [أبوداؤد 5206] ، [ابن حبان 502]
اس روایت کی سند بہت قوی ہے۔ دیکھئے: [بخاري 6257] ، [مسلم 2164] ، [أبوداؤد 5206] ، [ابن حبان 502]
وضاحت: (تشریح حدیث 2670)
[بخاري شريف 6256] میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: السام علیکم (تمہیں موت آ ئے)، میں سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا: علیکم السام واللعنتہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! صبر سے کام لو کیونکہ الله تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔
“ میں نے عرض کیا: آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا تھا؟ فرمایا: ”میں نے ان کا جواب دے دیا تھا کہ ”علیکم“ اور تمہیں بھی۔
“ یعنی جو تم نے کہا وہی تمہیں بھی نصیب ہوا۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ کوئی غیر مسلم اس طرح کہے تو اس کا جواب علیک یا علیکم سے دینا چاہیے کہ تمہارے لئے بھی وہی جس کے تم مستحق ہو یا جو تم ہمارے لئے چاہتے ہو۔
علماء نے کہا ہے کہ ”علیکم“ کہنا ”وعلیکم“ سے زیادہ فصیح و بلیغ ہے، اور السام واللعنتہ کہنے سے روکا اس لئے کہ اس میں سخت کلامی اور خشونت ہے، والله اعلم۔
[بخاري شريف 6256] میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: السام علیکم (تمہیں موت آ ئے)، میں سمجھ گئی اور میں نے جواب دیا: علیکم السام واللعنتہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! صبر سے کام لو کیونکہ الله تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔
“ میں نے عرض کیا: آپ نے سنا نہیں انہوں نے کیا کہا تھا؟ فرمایا: ”میں نے ان کا جواب دے دیا تھا کہ ”علیکم“ اور تمہیں بھی۔
“ یعنی جو تم نے کہا وہی تمہیں بھی نصیب ہوا۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ کوئی غیر مسلم اس طرح کہے تو اس کا جواب علیک یا علیکم سے دینا چاہیے کہ تمہارے لئے بھی وہی جس کے تم مستحق ہو یا جو تم ہمارے لئے چاہتے ہو۔
علماء نے کہا ہے کہ ”علیکم“ کہنا ”وعلیکم“ سے زیادہ فصیح و بلیغ ہے، اور السام واللعنتہ کہنے سے روکا اس لئے کہ اس میں سخت کلامی اور خشونت ہے، والله اعلم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن دينار القرشي، أبو عبد الرحمن عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله مالك بن أنس الأصبحي ← عبد الله بن دينار القرشي | رأس المتقنين وكبير المتثبتين | |
👤←👥خالد بن مخلد القطواني، أبو الهيثم خالد بن مخلد القطواني ← مالك بن أنس الأصبحي | مقبول |
Sunan Darmi Hadith 2671 in Urdu
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي