یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه تصاوير:
فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصاویر ہوں
حدیث نمبر: 2698
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِنَّ الْمَلَكَ لَا يَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ، وَلَا جُنُبٌ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جہاں کتا ہو، یا تصویر، یا جنبی ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2698]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد إذا كان عبد الله بن نجي سمعه من علي، [مكتبه الشامله نمبر: 2705] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 227، 4152] ، [نسائي 261، 4292] ، [ابن ماجه 3650] ، [أبويعلی 313] ، [ابن حبان 1205] ، [موارد الظمآن 1484]
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 227، 4152] ، [نسائي 261، 4292] ، [ابن ماجه 3650] ، [أبويعلی 313] ، [ابن حبان 1205] ، [موارد الظمآن 1484]
وضاحت: (تشریح حدیث 2697)
یہاں اس حدیث میں رحمت کے فرشتے مراد ہیں جن کو ان چیزوں سے نفرت ہے، جو مسلمان اور سچے مومنوں کے پاس شوق اور محبت سے اپنی مرضی سے آتے جاتے ہیں لیکن اگر الله تعالیٰ کا حکم ہو تو ہرجگہ پہنچیں گے: «﴿لَا يَعْصُونَ اللّٰهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾ [التحريم: 6] » ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ جو حکم ان کو دیتا ہے وہ اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں بلکہ جو حکم ان کو دیا جاتا اس کو بجا لاتے ہیں۔
“ ورنہ لازم آئے گا کہ جس کمرے میں کتا یا تصویر ہو وہاں ملک الموت بھی داخل نہ ہو۔
ایک ملحد نے اسی قسم کا اعتراض کیا تو کسی عامی نے جواب دیا کہ آپ ہر وقت کتا اپنے ساتھ رکھیں گے تو آپ کی روح قبض کرنے کے لئے وہ فرشتہ نہ آئے گا جو مؤمنین اور صالحین کی روح قبض کرتا ہے، بلکہ وہ فرشتہ آئے گا جو کتوں اور سوروں کی روح قبض کیا کرتا ہے۔
(وحیدی باختصار)۔
یہاں اس حدیث میں رحمت کے فرشتے مراد ہیں جن کو ان چیزوں سے نفرت ہے، جو مسلمان اور سچے مومنوں کے پاس شوق اور محبت سے اپنی مرضی سے آتے جاتے ہیں لیکن اگر الله تعالیٰ کا حکم ہو تو ہرجگہ پہنچیں گے: «﴿لَا يَعْصُونَ اللّٰهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ﴾ [التحريم: 6] » ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ جو حکم ان کو دیتا ہے وہ اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں بلکہ جو حکم ان کو دیا جاتا اس کو بجا لاتے ہیں۔
“ ورنہ لازم آئے گا کہ جس کمرے میں کتا یا تصویر ہو وہاں ملک الموت بھی داخل نہ ہو۔
ایک ملحد نے اسی قسم کا اعتراض کیا تو کسی عامی نے جواب دیا کہ آپ ہر وقت کتا اپنے ساتھ رکھیں گے تو آپ کی روح قبض کرنے کے لئے وہ فرشتہ نہ آئے گا جو مؤمنین اور صالحین کی روح قبض کرتا ہے، بلکہ وہ فرشتہ آئے گا جو کتوں اور سوروں کی روح قبض کیا کرتا ہے۔
(وحیدی باختصار)۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 2698 in Urdu
عبد الله بن نجي الحضرمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي