🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب الدنيا خضرة حلوة:
دنیا بڑی سرسبز و شیریں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2785
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ , قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا حَكِيمُ , إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ، فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ، بُورِكَ لَهُ فِيهِ، وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ، لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ، وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى".
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا، میں نے پھر مانگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر عطا فرما دیا، میں نے پھر مانگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی عطا فرمایا، میں نے پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حکیم! یہ دولت بڑی سرسبز اور بہت ہی شیریں ہے لیکن جو شخص اسے اپنے دل کو سخی رکھ کر لے تو اس کی دولت میں برکت ہوتی ہے، اور جو اسے لالچ کے ساتھ لیتا ہے تو اس کی دولت میں کوئی برکت نہ ہوگی، اس کا حال اس شخص جیسا ہوگا جو کھاتا ہے لیکن آسوده نہیں ہوتا، اور اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ (یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2785]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2792] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1472] ، [مسلم 1035] ، [ترمذي 2463] ، [نسائي 2530] ، [أبويعلی 487/11] ، [ابن حبان 3220] ، [الحميدي 563، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2784)
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بڑے ہی فاضل، متقی، زیرک صحابہ میں سے تھے، لمبی عمر پائی، عہدِ معاویہ تک حیات تھے اور حبیبِ کا ئنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مرتے دم تک کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کیا، یہاں تک کہ امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! گواہ رہنا میں حکیم کو دیتا ہوں لیکن وہ ہمیشہ مال و دولت لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔
اس حدیث میں حکیمِ انسانیت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قانع اور حریص کی مثال بیان فرمائی کہ جو بھی کوئی دنیاوی دولت کے سلسلے میں صبر و قناعت سے کام لے گا اور حرص و لالچ کی بیماری سے بچے گا اس کے لئے برکتوں کے دروازے کھلیں گے، اور تھوڑا مال بھی اس کے لئے کافی ہوگا۔
حریص: اس کا پیٹ بھر ہی نہیں سکتا خواہ اس کو ساری دنیا کی دولت حاصل ہو جائے وہ پھر بھی اسی چکر میں رہے گا کہ کسی طرح بھی مزید دولت حاصل ہو جائے، ایسے طماع لوگ نہ اللہ کے نام پر خرچ کرتے ہیں، نہ مخلوق کو فائدہ پہنچانے کا جذبہ رکھتے ہیں، نہ کشادگی کے ساتھ اپنے اہل و عیال ہی پر خرچ کرتے ہیں۔
اگر سرمایہ داروں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بہت ہی بھیانک تصویر نظر آتی ہے۔
(مولانا راز رحمہ اللہ)۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حكيم بن حزام القرشي، أبو خالدصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← حكيم بن حزام القرشي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة مأمون
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة