سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب فى السحت:
حرام مال کھانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2811
أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:"يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، إِنَّهُ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنَ سُحْتٍ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے کعب بن عجرۃ! جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگا ایسا گوشت جو حرام سے بنا ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2811]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2818] »
اس حدیث کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 1999] ، [ابن حبان 1723] ، [موارد الظمآن 1569]
اس حدیث کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [أبويعلی 1999] ، [ابن حبان 1723] ، [موارد الظمآن 1569]
وضاحت: (تشریح حدیث 2810)
یعنی جس کی پرورش حرام سے ہو وہ جنّت میں نہ جائے گا، اس حدیث میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے پیغمبرِ اسلام نے ساری امت کو حرام کھانے سے روکا ہے، اور یہ وعیدِ شدید سنائی ہے کہ جس کی رگوں میں حرام خون دوڑ رہا ہو اس سے جو بھی گوشت پرورش پائے گا وہ جہنمی ہوگا، لہٰذا چوری، ظلم، غصب، رشوت یا حرام چیزیں کھانے والا جنّت میں نہ جائے گا۔
یعنی جس کی پرورش حرام سے ہو وہ جنّت میں نہ جائے گا، اس حدیث میں سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کو مخاطب کر کے پیغمبرِ اسلام نے ساری امت کو حرام کھانے سے روکا ہے، اور یہ وعیدِ شدید سنائی ہے کہ جس کی رگوں میں حرام خون دوڑ رہا ہو اس سے جو بھی گوشت پرورش پائے گا وہ جہنمی ہوگا، لہٰذا چوری، ظلم، غصب، رشوت یا حرام چیزیں کھانے والا جنّت میں نہ جائے گا۔
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن سابط القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري