سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
116. باب: حفت الجنة بالمكاره :
جنت تکالیف کے ساتھ گھیر دی گئی ہے
حدیث نمبر: 2877
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ، وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت ایسی چیزوں سے گھیر دی گئی ہے جو نفس کو ناگوار ہیں، اور جہنم گھیر دی گئی نفسانی خواہشات سے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2877]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2885] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2822] ، [ترمذي 2559] ، [أبويعلی 3275] ، [ابن حبان 716] ، [أبونعيم فى صفة الجنة 42]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2822] ، [ترمذي 2559] ، [أبويعلی 3275] ، [ابن حبان 716] ، [أبونعيم فى صفة الجنة 42]
وضاحت: (تشریح حدیث 2876)
«مكاره» سے مراد وہ امور ہیں جن کے بجا لانے پر یا ترک کر دینے کا مسلمان کو حکم دیا گیا ہے، اور وہ امور نفسِ انسانی پر سخت ناگوار اور مشکل ہوتے ہیں، جیسے عبادت ریاضت، عبادات پر مواظبت، ان کی مشقتوں پر صبر، غصہ روکنا، عفو و حلم، صدقہ و جہاد، یہ سارے امور بجا لانا نفس پر شاق ہوتا ہے، اور جنّت انہیں امور کو بجا لانے سے ملتی ہے، اور شہوات سے مراد وہ امور ہیں جن سے شریعت میں منع کیا گیا، اور نفسِ انسانی اس میں لذت محسوس کرے اور اس کی خواہش کرے، جیسے شراب خوری، زنا، اجنبی عورت کو گھورنا، غیبت، جھوٹ، کھیل کود جو نماز سے غافل کر دیں، اور دیگر لہو و لعب، گانے، میوزک وغیرہ، یہ سب مستلذات و شہوات میں سے ہیں اور نفس ان کی طرف بری طرح مائل ہوتا ہے، ان امور کے ارتکاب سے جہنم ملتی ہے، یعنی عباداتِ شاقہ کے بجا لانے سے جنّت اور شہواتِ نفسانیہ سے جہنم کا آدمی مستحق ہو جاتا ہے۔
«واللّٰه أعلم و علمه أتم.»
«مكاره» سے مراد وہ امور ہیں جن کے بجا لانے پر یا ترک کر دینے کا مسلمان کو حکم دیا گیا ہے، اور وہ امور نفسِ انسانی پر سخت ناگوار اور مشکل ہوتے ہیں، جیسے عبادت ریاضت، عبادات پر مواظبت، ان کی مشقتوں پر صبر، غصہ روکنا، عفو و حلم، صدقہ و جہاد، یہ سارے امور بجا لانا نفس پر شاق ہوتا ہے، اور جنّت انہیں امور کو بجا لانے سے ملتی ہے، اور شہوات سے مراد وہ امور ہیں جن سے شریعت میں منع کیا گیا، اور نفسِ انسانی اس میں لذت محسوس کرے اور اس کی خواہش کرے، جیسے شراب خوری، زنا، اجنبی عورت کو گھورنا، غیبت، جھوٹ، کھیل کود جو نماز سے غافل کر دیں، اور دیگر لہو و لعب، گانے، میوزک وغیرہ، یہ سب مستلذات و شہوات میں سے ہیں اور نفس ان کی طرف بری طرح مائل ہوتا ہے، ان امور کے ارتکاب سے جہنم ملتی ہے، یعنی عباداتِ شاقہ کے بجا لانے سے جنّت اور شہواتِ نفسانیہ سے جہنم کا آدمی مستحق ہو جاتا ہے۔
«واللّٰه أعلم و علمه أتم.»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب سليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة إمام حافظ |
Sunan Darmi Hadith 2877 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري