سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب فى الادعاء والإنكار:
کسی چیز کے انکار کا دعویٰ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3100
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ:"فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ ثَلَاثَةُ بَنِينَ، فَقَالَ: ثُلُثِي لِأَصْغَرِ بَنِيَّ، فَقَالَ الْأَوْسَطُ: أَنَا أُجِيزُ، وَقَالَ الْأَكْبَرُ: أَنَا لَا أُجِيزُ، قَالَ: هِيَ مِنْ تِسْعَةٍ يُخْرِجُ ثَلاثَةً فَلَهُ سَهْمُهُ، وَسَهْمُ الَّذِي أَجَاز". وَقَالَ حَمَّادٌ: يَرُدُّ السَّهْمَ عَلَيْهِمْ جَمِيعًا، وَقَالَ عَامِرٌ: الَّذِي رَدَّ إِنَّمَا رَدَّ عَلَى نَفْسِهِ.
حماد سے مروی ہے: آدمی کے تین بیٹے ہیں، اس نے کہا: میرا ایک ثلث (تہائی) مال سب سے چھوٹے بیٹے کے لئے ہے، بیچ والے لڑکے نے کہا: میری طرف سے اجازت ہے، اور بڑے بیٹے نے کہا: میں نہیں مانتا؟ حماد نے کہا: مسئلہ نو سے ہو گا، اس میں تین (سب سے چھوٹے لڑکے ہوں گے) اس کا حصہ اور جس نے اجازت دی اس کا حصہ ہے۔ اور حماد نے کہا: جو باقی بچا وه سب پر برابر لوٹا دیا جائے گا، اور شعبی رحمہ اللہ نے کہا: جس نے رد کر دیا (گویا) اس نے اپنے سے (اپنا حصہ) رد کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3100]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى حماد وهو: ابن أبي سليمان، [مكتبه الشامله نمبر: 3109] »
حماد: ابن ابی سلیمان ہیں، اور ابوسلیمان کا نام مسلم ہے، ان تک یہ سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11072] ، [عبدالرزاق 19145]
حماد: ابن ابی سلیمان ہیں، اور ابوسلیمان کا نام مسلم ہے، ان تک یہ سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11072] ، [عبدالرزاق 19145]
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عامر الشعبي، أبو عمرو | ثقة | |
👤←👥حماد بن أبي سليمان الأشعري، أبو إسماعيل حماد بن أبي سليمان الأشعري ← عامر الشعبي | صدوق كثير الخطأ والوهم، ورمي بالإرجاء | |
👤←👥المغيرة بن مقسم الضبي، أبو هشام، أبو هاشم المغيرة بن مقسم الضبي ← حماد بن أبي سليمان الأشعري | ثقة مدلس | |
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة الوضاح بن عبد الله اليشكري ← المغيرة بن مقسم الضبي | ثقة ثبت | |
👤←👥يونس بن محمد المؤدب، أبو محمد يونس بن محمد المؤدب ← الوضاح بن عبد الله اليشكري | ثقة ثبت |
حماد بن أبي سليمان الأشعري ← عامر الشعبي