سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. باب من أوصى لأمهات أولاده:
اولاد کی ماؤں کے لئے وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3313
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ "أَوْصَى لِأُمَّهَاتِ أَوْلَادِهِ بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ، أَرْبَعَةِ آلَافٍ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ".
حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد کی ماؤں کے لئے چار ہزار کی وصیت کی، ان میں سے ہر ایک عورت کے لئے چار ہزار کی۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3313]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن منقطع الحسن لم يسمع من عمر، [مكتبه الشامله نمبر: 3324] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا لقاء سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11021] ، [عبدالرزاق 16458] ، [ابن منصور 438]
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، لیکن سند میں انقطاع ہے۔ حسن رحمہ اللہ کا لقاء سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11021] ، [عبدالرزاق 16458] ، [ابن منصور 438]
وضاحت: (تشریح حدیث 3312)
«أمهات أولاده» سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جن سے ان کا مالک جماع کرے اور ان سے اولاد ہو جائے، ان کے لئے کوئی حصہ مقرر نہیں ہے، اس لئے وصیت میں ان کے لئے مالک کچھ حصہ مقرر کر سکتا ہے۔
والله اعلم۔
«أمهات أولاده» سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جن سے ان کا مالک جماع کرے اور ان سے اولاد ہو جائے، ان کے لئے کوئی حصہ مقرر نہیں ہے، اس لئے وصیت میں ان کے لئے مالک کچھ حصہ مقرر کر سکتا ہے۔
والله اعلم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة حميد بن أبي حميد الطويل ← الحسن البصري | ثقة مدلس | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← حميد بن أبي حميد الطويل | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب سليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة إمام حافظ |
الحسن البصري ← عمر بن الخطاب العدوي