سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب فى فضل سورة الكهف:
سورۃ الکہف کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3439
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، أَضَاءَ لَهُ مِنْ النُّورِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص جمعہ کی رات کو سورہ کہف پڑھے تو اس کے لئے اس سے لے کر بیت اللہ تک نور کی روشنی ہوتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3439]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى أبي سعيد وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 3450] »
اس اثر کی سند صحیح اور موقوف علی سیدنا ابی سعید رضی اللہ عنہ ہے۔ اس کو ابوعبید نے [فضائل القرآن، ص: 244] میں اور بیہقی نے [شعب الإيمان 2444] میں روایت کیا ہے۔ نیز نسائی نے [عمل اليوم و الليله 953، 954] میں، حاکم نے [حاكم 2073] میں اور بیہقی نے [بيهقي 2446] میں بھی اس کی تخریج کی ہے۔ جمعہ کے دن کچھ فقہاء نے سورہ کہف کی تلاوت کو مستحب قرار دیا ہے، ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
اس اثر کی سند صحیح اور موقوف علی سیدنا ابی سعید رضی اللہ عنہ ہے۔ اس کو ابوعبید نے [فضائل القرآن، ص: 244] میں اور بیہقی نے [شعب الإيمان 2444] میں روایت کیا ہے۔ نیز نسائی نے [عمل اليوم و الليله 953، 954] میں، حاکم نے [حاكم 2073] میں اور بیہقی نے [بيهقي 2446] میں بھی اس کی تخریج کی ہے۔ جمعہ کے دن کچھ فقہاء نے سورہ کہف کی تلاوت کو مستحب قرار دیا ہے، ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥قيس بن عباد القيسي، أبو عبد الله قيس بن عباد القيسي ← أبو سعيد الخدري | ثقة | |
👤←👥لاحق بن حميد السدوسي، أبو مجلز لاحق بن حميد السدوسي ← قيس بن عباد القيسي | ثقة | |
👤←👥يحيى بن أبي الأسود الرماني، أبو هاشم يحيى بن أبي الأسود الرماني ← لاحق بن حميد السدوسي | ثقة | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← يحيى بن أبي الأسود الرماني | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي | |
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان محمد بن الفضل السدوسي ← هشيم بن بشير السلمي | ثقة ثبت تغير في آخر عمره |
سنن دارمی کی حدیث نمبر 3439 کے فوائد و مسائل
الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظہ الله، فوائد و مسائل، سنن دارمی: 3439
*جمعہ کے دن سورت کہف کی تلاوت*
جمعہ کے دن سورت کہف پڑھنے کی فضیلت ثابت نہیں۔ اس بارے میں حدیث ضعیف ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَه، مِنَ النُّورِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ.»
' ”جس نے جمعہ کے دن سورت کہف کی تلاوت کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن فرما دیتا ہے۔“ [المستدرك للحاكم: 368/2]
سنن دارمی (3450) میں یہی روایت موقوف آئی ہے۔
سند ضعیف ہے۔
ہشیم بن بشیر واسطی نے یہ حدیث ابو ہاشم رمانی سے نہیں سنی۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لَمْ يَسْمَعْهُ هُشَيْمٌ مِنْ أَبِي هَاشِمٍ.»
”یہ روایت ہشیم نے ابو ہاشم سے نہیں سنی۔“
[العِلَل ومعرفة الرجال برواية عبد اللّه: 251/2]
جس سند میں ہشیم کے «حدثنا» کہنے کا ذکر ہے، وہ کسی راوی کا وہم ہے یا ہشیم نے خود ایسا کہا ہے، مگر انہوں نے یہ حدیث ابو ہاشم سے نہیں سنی، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے، ہشیم ان روایات میں بھی «حدثنا» کہہ دیتے تھے، جو انہوں نے اپنے شیوخ سے نہیں سنی ہوتی تھیں، جس کا اقرار وہ خود بھی کرتے ہیں، ملاحظہ ہو۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«سَمِعْتُ هُشَيْمًا يُحَدِّثُ يَوْمًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّه، لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ.»
' ”میں نے ہشیم کو سنا وہ ایک دن حدیث بیان کر رہے تھے: «حدثنا على بن زيد» ، پھر فرمانے لگے کہ میں نے یہ حدیث علی بن زید سے نہیں سنی.“
[تاريخ ابن معين برواية الدوري: 4921]
امام ابن معین رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
«أَخْطَأَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَهْدِيٍّ يَوْمًا فَقَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَلَمْ يَكَنْ هُشَيْمٌ سَمِعَه، مِنْ مَنْصُورٍ.»
”ایک دن عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے (حدیث بیان کرنے میں) خطا کی، کہنے لگے: حدثنا ہشیم قال: حدثنا منصور۔ جبکہ ہشیم نے اس روایت میں منصور سے سماع نہیں کیا۔“
[تاريخ ابن معين برواية الدوري: 3620]
معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن سورت کہف پڑھنے کے بارے میں حدیث ثابت نہیں، کیونکہ ہشیم بن بشیر نے اس روایت میں ابو ہاشم رمانی سے سماع نہیں کیا، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے اور جہاں «حدثنا» ہے، وہ سماع کی صراحت نہیں۔
جمعہ کے دن سورت کہف پڑھنے کی فضیلت ثابت نہیں۔ اس بارے میں حدیث ضعیف ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّ مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْكَهْفِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَضَاءَ لَه، مِنَ النُّورِ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ.»
' ”جس نے جمعہ کے دن سورت کہف کی تلاوت کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دو جمعوں کے درمیان نور روشن فرما دیتا ہے۔“ [المستدرك للحاكم: 368/2]
سنن دارمی (3450) میں یہی روایت موقوف آئی ہے۔
سند ضعیف ہے۔
ہشیم بن بشیر واسطی نے یہ حدیث ابو ہاشم رمانی سے نہیں سنی۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«لَمْ يَسْمَعْهُ هُشَيْمٌ مِنْ أَبِي هَاشِمٍ.»
”یہ روایت ہشیم نے ابو ہاشم سے نہیں سنی۔“
[العِلَل ومعرفة الرجال برواية عبد اللّه: 251/2]
جس سند میں ہشیم کے «حدثنا» کہنے کا ذکر ہے، وہ کسی راوی کا وہم ہے یا ہشیم نے خود ایسا کہا ہے، مگر انہوں نے یہ حدیث ابو ہاشم سے نہیں سنی، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے، ہشیم ان روایات میں بھی «حدثنا» کہہ دیتے تھے، جو انہوں نے اپنے شیوخ سے نہیں سنی ہوتی تھیں، جس کا اقرار وہ خود بھی کرتے ہیں، ملاحظہ ہو۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«سَمِعْتُ هُشَيْمًا يُحَدِّثُ يَوْمًا فَقَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّه، لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ.»
' ”میں نے ہشیم کو سنا وہ ایک دن حدیث بیان کر رہے تھے: «حدثنا على بن زيد» ، پھر فرمانے لگے کہ میں نے یہ حدیث علی بن زید سے نہیں سنی.“
[تاريخ ابن معين برواية الدوري: 4921]
امام ابن معین رحمہ اللہ مزید فرماتے ہیں:
«أَخْطَأَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَهْدِيٍّ يَوْمًا فَقَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ وَلَمْ يَكَنْ هُشَيْمٌ سَمِعَه، مِنْ مَنْصُورٍ.»
”ایک دن عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے (حدیث بیان کرنے میں) خطا کی، کہنے لگے: حدثنا ہشیم قال: حدثنا منصور۔ جبکہ ہشیم نے اس روایت میں منصور سے سماع نہیں کیا۔“
[تاريخ ابن معين برواية الدوري: 3620]
معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن سورت کہف پڑھنے کے بارے میں حدیث ثابت نہیں، کیونکہ ہشیم بن بشیر نے اس روایت میں ابو ہاشم رمانی سے سماع نہیں کیا، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا ہے اور جہاں «حدثنا» ہے، وہ سماع کی صراحت نہیں۔
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
اسلام کیو اے، اردو فتاویٰ، فوائد و مسائل، سنن دارمی: 3439
جمعہ کے دن یا جمعۃ کی رات میں سورۃ الکھف پڑھنے کی فضیلت
جمعہ کے دن یا جمعۃ کی رات میں سورۃ الکھف پڑھنے کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث وارد ہیں جن میں سےکچھ کا ذکرذیل میں کیا جاتا ہے:
ا - ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نورکی روشنی ہو جاتی ہے) سنن دارمی (3407) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع (6471) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
ب – فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اسے کے لیے دوجمعوں کے درمیان نورروشن ہوجاتا ہے) مستدرک الحاکم (2 / 399) بیھقی (3 / 249) اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی " تخریج الاذکار " میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ سورۃ الکھف کے بارہ میں سب سےقوی یہی حديث ہے۔ دیکھیں: فیض القدیر [6 / 198] اور علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع [6470] میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
ج - ابن عمررضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے قدموں کے نیچے سے لے کر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور اس دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کر دیۓ جاتے ہیں۔
منذری کا کہنا ہے کہ: ابوبکر بن مردویہ نے اسے تفسیر میں روایت کیا ہے جس کی سند میں کوئ حرج نہیں، «لاباس به» کہا ہے۔ [الترغيب والترهيب 1 / 298]
سورۃ الکھف جمعہ کی رات یا پھر جمعہ کے دن پڑھنی چاہیے، جمعہ کی رات جمعرات کومغرب سے شروع ہوتی اور جمعہ کا دن غروب شمس کے وقت ختم ہوجاتا ہے، تو اس بنا پر سورۃ الکھف پڑھنے کا وقت جمعرات والے دن غروب شمس سے جمعہ والے دن غروب شمس تک ہوگا۔
مناوی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ:
حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " امالیہ " میں کہا ہے کہ: کچھ روایا ت میں اسی طرح ہے کہ یوم الجمعۃ اور کچھ روایات میں لیلۃ الجمعۃ کے الفاظ ہیں، اور ان میں جمع اس طرح ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ لیا جاۓ کہ دن اس کی رات کے ساتھ اور رات اپنے دن کے ساتھ، (یعنی یوم الجمعۃ کا معنی دن اوررات اورلیلۃ الجمعۃ کا معنی یہ ہوگا کہ رات اور دن) [فيض القدير 6 / 199]
اور مناوی رحمہ اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ:
جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنی مندوب ہے اورجیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی سے یہ منصوص ہے کہ جمعہ کی رات بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ دیکھیں: [فيض القدير 6 / 198]
جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت
جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت کرنے کے متعلق جتنی بھی احادیث وارد ہیں ان میں کوئی ایک بھی صحیح نہیں بلکہ یا تووہ ضعیف اور یاپھر موضوع ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(جمعہ کے دن جس نے بھی سورۃ آل عمران پڑھی اس پر اللہ تعالی اور اس کے فرشتے غروب شمس تک رحمتیں بھیجتے ہیں)۔ اسے طبرانی نے المعجم الاوسط (6 / 191) اور معجم الکبیر (11 / 48) میں روایت کیا ہے۔
یہ حدیث بہت ہی زیادہ ضعیف یا پھر موضوع ہے۔
اس کے متعلق ھیثمی کا کہنا ہے کہ: اسے طبرانی نےالمعجم الاوسط اور معجم الکبیرمیں روایت کیا ہے اس کی سند میں طلحۃ بن زید الرقی ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد 2 / 168]
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ: طلحۃ ضعیف جدا ہے بلکہ امام احمد اور ابوداود رحمہما اللہ نے تواس کی طرف وضع کی نسبت کی ہے۔ [فيض القدير 6 / 199]
اور شیخ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے دیکھیں: [ضعيف الجامع حديث نمبر 5759]
اور ایسے ہی اس (سورۃ آل عمران) کے بارہ میں تمیمی رحمہ اللہ تعالی نے " الترغیب " میں یہ حدیث روایت کی ہے:
(جس نے جمعہ کی رات سورۃ آل عمران پڑھی اسے اتنا اجر ملے گا جتنا کہ بیداء یعنی ساتویں زمین اور عروب یعنی ساتویں آسمان کے درمیان فاصلہ ہے) اس حدیث کے بارہ میں مناوی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ یہ غریب اور بہت ہی ضعیف ہے۔ دیکھیں: [فيض القدير 6 / 199]
واللہ تعالی اعلم۔ .
حوالہ جات
ماخذ:
الشيخ محمد صالح المنجد
جمعہ کے دن یا جمعۃ کی رات میں سورۃ الکھف پڑھنے کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث وارد ہیں جن میں سےکچھ کا ذکرذیل میں کیا جاتا ہے:
ا - ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نورکی روشنی ہو جاتی ہے) سنن دارمی (3407) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع (6471) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
ب – فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
(جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اسے کے لیے دوجمعوں کے درمیان نورروشن ہوجاتا ہے) مستدرک الحاکم (2 / 399) بیھقی (3 / 249) اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی " تخریج الاذکار " میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ سورۃ الکھف کے بارہ میں سب سےقوی یہی حديث ہے۔ دیکھیں: فیض القدیر [6 / 198] اور علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع [6470] میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔
ج - ابن عمررضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے قدموں کے نیچے سے لے کر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور اس دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کر دیۓ جاتے ہیں۔
منذری کا کہنا ہے کہ: ابوبکر بن مردویہ نے اسے تفسیر میں روایت کیا ہے جس کی سند میں کوئ حرج نہیں، «لاباس به» کہا ہے۔ [الترغيب والترهيب 1 / 298]
سورۃ الکھف جمعہ کی رات یا پھر جمعہ کے دن پڑھنی چاہیے، جمعہ کی رات جمعرات کومغرب سے شروع ہوتی اور جمعہ کا دن غروب شمس کے وقت ختم ہوجاتا ہے، تو اس بنا پر سورۃ الکھف پڑھنے کا وقت جمعرات والے دن غروب شمس سے جمعہ والے دن غروب شمس تک ہوگا۔
مناوی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ:
حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " امالیہ " میں کہا ہے کہ: کچھ روایا ت میں اسی طرح ہے کہ یوم الجمعۃ اور کچھ روایات میں لیلۃ الجمعۃ کے الفاظ ہیں، اور ان میں جمع اس طرح ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ لیا جاۓ کہ دن اس کی رات کے ساتھ اور رات اپنے دن کے ساتھ، (یعنی یوم الجمعۃ کا معنی دن اوررات اورلیلۃ الجمعۃ کا معنی یہ ہوگا کہ رات اور دن) [فيض القدير 6 / 199]
اور مناوی رحمہ اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ:
جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنی مندوب ہے اورجیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی سے یہ منصوص ہے کہ جمعہ کی رات بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ دیکھیں: [فيض القدير 6 / 198]
جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت
جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت کرنے کے متعلق جتنی بھی احادیث وارد ہیں ان میں کوئی ایک بھی صحیح نہیں بلکہ یا تووہ ضعیف اور یاپھر موضوع ہیں۔
ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(جمعہ کے دن جس نے بھی سورۃ آل عمران پڑھی اس پر اللہ تعالی اور اس کے فرشتے غروب شمس تک رحمتیں بھیجتے ہیں)۔ اسے طبرانی نے المعجم الاوسط (6 / 191) اور معجم الکبیر (11 / 48) میں روایت کیا ہے۔
یہ حدیث بہت ہی زیادہ ضعیف یا پھر موضوع ہے۔
اس کے متعلق ھیثمی کا کہنا ہے کہ: اسے طبرانی نےالمعجم الاوسط اور معجم الکبیرمیں روایت کیا ہے اس کی سند میں طلحۃ بن زید الرقی ضعیف ہے۔ [مجمع الزوائد 2 / 168]
اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ: طلحۃ ضعیف جدا ہے بلکہ امام احمد اور ابوداود رحمہما اللہ نے تواس کی طرف وضع کی نسبت کی ہے۔ [فيض القدير 6 / 199]
اور شیخ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے دیکھیں: [ضعيف الجامع حديث نمبر 5759]
اور ایسے ہی اس (سورۃ آل عمران) کے بارہ میں تمیمی رحمہ اللہ تعالی نے " الترغیب " میں یہ حدیث روایت کی ہے:
(جس نے جمعہ کی رات سورۃ آل عمران پڑھی اسے اتنا اجر ملے گا جتنا کہ بیداء یعنی ساتویں زمین اور عروب یعنی ساتویں آسمان کے درمیان فاصلہ ہے) اس حدیث کے بارہ میں مناوی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ یہ غریب اور بہت ہی ضعیف ہے۔ دیکھیں: [فيض القدير 6 / 199]
واللہ تعالی اعلم۔ .
حوالہ جات
ماخذ:
الشيخ محمد صالح المنجد
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
Sunan Darmi Hadith 3439 in Urdu
قيس بن عباد القيسي ← أبو سعيد الخدري