پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب كم يكون القنطار:
قنطار کی مقدار کتنی ہوتی ہے
حدیث نمبر: 3501
حَدَّثَنَا إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: "الْقِنْطَارُ: أَلْفُ أُوقِيَّةٍ وَمِائَتَا أُوقِيَّةٍ".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا: قنطار بارہ ہزار اوقیہ کا ہوتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3501]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات أبو بكر هو: ابن عياش وأبو حصين هو: عثمان بن عاصم. غير أن سالما لم يدرك معاذا فالإسناد منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 3512] »
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، ابوبکر: ابن عیاش، ابوحصین: عثمان بن عاصم ہیں، اور سالم کی ملا قات سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہوئی، اس سند میں انقطاع ہے۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 200/3]
اس اثر کے رجال ثقات ہیں، ابوبکر: ابن عیاش، ابوحصین: عثمان بن عاصم ہیں، اور سالم کی ملا قات سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہوئی، اس سند میں انقطاع ہے۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 200/3]
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 3501 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← معاذ بن جبل الأنصاري