🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب الرحلة فى طلب العلم واحتمال العناء فيه:
علم کی طلب میں سفر کرنا اور اس میں مشقت برداشت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 589
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ: يَا فُلَانُ، هَلُمَّ فَلْنَسْأَلْ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُمْ الْيَوْمَ كَثِيرٌ، فَقَالَ: وَا عَجَبًا لَكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَتَرَى النَّاسَ يَحْتَاجُونَ إِلَيْكَ وَفِي النَّاسِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَى؟ فَتَرَكَ ذَلِكَ، وَأَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ، فَإِنْ كَانَ لَيَبْلُغُنِي الْحَدِيثُ عَنْ الرَّجُلِ فَآتِيهِ، وَهُوَ قَائِلٌ، فَأَتَوَسَّدُ رِدَائِي عَلَى بَابِهِ، فَتَسْفِي الرِّيحُ عَلَى وَجْهِي التُّرَابَ، فَيَخْرُجُ، فَيَرَانِي، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ، مَا جَاءَ بِكَ؟ أَلَا أَرْسَلْتَ إِلَيَّ فَآتِيَكَ؟، فَأَقُولُ: لَا، أَنَا أَحَقُّ أَنْ آتِيَكَ، فَأَسْأَلُهُ عَنْ الْحَدِيثِ، قَالَ: فَبَقِيَ الرَّجُلُ حَتَّى رَآنِي وَقَدْ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيَّ، فَقَالَ: كَانَ هَذَا الْفَتَى أَعْقَلَ مِنِّي".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں نے انصار کے ایک آدمی سے کہا: اے بھائی! آؤ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے استفسار کریں، آج وہ کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: عباس کے بیٹے! کیسی عجیب بات کہتے ہو؟ کیا تم سوچتے ہو کہ لوگ اتنے سارے اصحاب رسول کی موجودگی میں تمہارے محتاج ہوں گے؟ پس انہوں نے ترک کیا اور میں نے سوال کرنے کی طرف توجہ کی، پس جب مجھے کوئی حدیث پہنچتی تو میں ان (انصاری بھائی) کے پاس جاتا، وہ قیلولہ کرتے ہوتے، ان کے دروازے پر چادر کا تکیہ لگا لیتا، ہوا سے میرے چہرے پر غبار چھا جاتا، وہ باہر آتے مجھے دیکھتے تو فرماتے: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے! کیوں آئے؟ کسی کو بھیج دیتے، میں خود حاضر ہو جاتا، میں عرض کرتا: نہیں، میں ہی زیادہ محتاج ہوں کہ آپ کے پاس آؤں، پھر میں ان سے اس حدیث کے بارے میں پوچھتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ (انصاری صحابی) لمبی مدت تک حیات رہے یہاں تک کہ مجھے دیکھا لوگ میرے پاس جمع ہوتے ہیں، فرمایا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقل مند تھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 589]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 590] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المعرفة للفسوي 542/1] ، [المستدرك 106/1] ، [الجامع لأخلاق الراوي 215] ۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (585، 586)۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥يعلى بن حكيم الثقفي
Newيعلى بن حكيم الثقفي ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥جرير بن حازم الأزدي، أبو النضر
Newجرير بن حازم الأزدي ← يعلى بن حكيم الثقفي
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← جرير بن حازم الأزدي
ثقة متقن