🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
56. باب فى إعظام العلم:
علم کی عظمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 669
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَسْوَدُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مُنَبِّهٍ: "كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِيمَا مَضَى يَضَنُّونَ بِعِلْمِهِمْ عَنْ أَهْلِ الدُّنْيَا، فَيَرْغَبُ أَهْلُ الدُّنْيَا فِي عِلْمِهِمْ، فَيَبْذُلُونَ لَهُمْ دُنْيَاهُمْ، وَإِنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ الْيَوْمَ بَذَلُوا عِلْمَهُمْ لِأَهْلِ الدُّنْيَا، فَزَهِدَ أَهْلُ الدُّنْيَا فِي عِلْمِهِمْ، فَضَنُّوا عَلَيْهِمْ بِدُنْيَاهُمْ".
حجاج الاسود سے مروی ہے وہب بن منبہ نے فرمایا: ماضی میں اہل علم اپنے علم کو دنیا داروں سے بچاتے تھے، تو دنیا دار ان کے علم میں رغبت رکھتے تھے، اور اپنی دنیا ان پر لٹا دیتے تھے، لیکن آج کے اہل علم نے اپنے علم کو دنیا داروں پر لٹایا ہے تو دنیا دار ان کے علم سے دست کش ہو گئے، اور اپنی دنیا کو ان سے بچا لیا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 669]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه: حجاج الأسود لم يدرك وهبا فيما نعلم والله أعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 672] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، کیونکہ حجاج (بن ابی زیاد) نے وہب کو نہیں پایا۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 29/4] ، [الجرح والتعديل 160/3] و [ميزان الاعتدال 460/1]

Sunan Darmi Hadith 669 in Urdu