سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب فى تواضع رسول الله صلى الله عليه وسلم:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع کا بیان
حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ، وَيُقِلُّ اللَّغْوَ، وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ، وَيُقْصِرُ الْخُطْبَةَ، وَلَا يَأْنَفُ وَلَا يَسْتَنْكِفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُمَا حَاجَتَهُمَا".
سیدنا عبدالله بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذکر (الٰہی) زیادہ کرتے اور بے مقصد باتیں کم کرتے تھے، نماز لمبی پڑھتے اور خطبہ مختصر دیتے، نہ برا کہتے اور نہ گھمنڈ کرتے، بیوہ اور مسکین کے ساتھ چلتے اور ان کی ضرورت و حاجت پوری فرماتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 75] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن اس کی متابعت موجود ہے اور اس کو امام نسائی نے [السنن الكبرى 1716] میں اور بیہقی نے [شعب الايمان 8114] میں ذکر کیا ہے اور [صحيح ابن حبان 6423] میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن اس کی متابعت موجود ہے اور اس کو امام نسائی نے [السنن الكبرى 1716] میں اور بیہقی نے [شعب الايمان 8114] میں ذکر کیا ہے اور [صحيح ابن حبان 6423] میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 75)
اس روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں بھی ہے: «كَانَ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَلَىٰ كُلِّ أَحْيَانِهِ.» مسلم: (373)۔
بے مقصد باتیں کم کرنا۔
(یہ جملہ محل نظر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے مقصد گفتگو کبھی نہیں فرماتے تھے)۔
اس میں نماز لمبی اور خطبہ مختصر دینے کا ثبوت ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کی ایک جھلک ہے کہ بوڑھے اور غریبوں کے ساتھ چلنے میں عار نہ سمجھتے، بلکہ ان کی حاجت روائی فرماتے۔
اس روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں بھی ہے: «كَانَ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَلَىٰ كُلِّ أَحْيَانِهِ.» مسلم: (373)۔
بے مقصد باتیں کم کرنا۔
(یہ جملہ محل نظر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے مقصد گفتگو کبھی نہیں فرماتے تھے)۔
اس میں نماز لمبی اور خطبہ مختصر دینے کا ثبوت ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کی ایک جھلک ہے کہ بوڑھے اور غریبوں کے ساتھ چلنے میں عار نہ سمجھتے، بلکہ ان کی حاجت روائی فرماتے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي، أبو محمد، أبو إبراهيم، أبو معاوية | صحابي | |
👤←👥يحيى بن عقيل الخزاعي يحيى بن عقيل الخزاعي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الحسين بن واقد المروزي، أبو علي، أبو عبد الله الحسين بن واقد المروزي ← يحيى بن عقيل الخزاعي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله الفضل بن موسى السيناني ← الحسين بن واقد المروزي | ثقة ثبت ربما أغرب | |
👤←👥محمد بن حميد التميمي، أبو عبد الله محمد بن حميد التميمي ← الفضل بن موسى السيناني | متروك الحديث |
Sunan Darmi Hadith 75 in Urdu
يحيى بن عقيل الخزاعي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي