الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب جواز الصلاة في النعلين:
باب: جوتیاں پہن کر نماز پرھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 555 ترقیم شاملہ: -- 1237
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا ، بِمِثْلِهِ.
(بشر کے بجائے) عباد بن عوام نے کہا: ہمیں ابومسلمہ سعید بن یزید نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ... (آگے) پہلی روایت کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1237]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1237]
ترقیم فوادعبدالباقی: 555
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1237 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1237
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر جوتی صاف اور پاک ہو تو اس میں نماز پڑھنا درست ہے لیکن آج کل مساجد میں فرش اور قالین ہوتے ہیں اورجوتے کی مٹی وغیرہ ان میں جذب ہو جاتی ہے اس لیے صرف وہاں جوتے پہن کر نماز پڑھنی چاہیے جہاں مسجد کچی ہو اس پر قالین،
دریاں،
صفیں نہ ہوں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر جوتی صاف اور پاک ہو تو اس میں نماز پڑھنا درست ہے لیکن آج کل مساجد میں فرش اور قالین ہوتے ہیں اورجوتے کی مٹی وغیرہ ان میں جذب ہو جاتی ہے اس لیے صرف وہاں جوتے پہن کر نماز پڑھنی چاہیے جہاں مسجد کچی ہو اس پر قالین،
دریاں،
صفیں نہ ہوں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1237]
سعيد بن يزيد الطاحي ← أنس بن مالك الأنصاري