صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب كراهة الصلاة بحضرة الطعام الذي يريد اكله في الحال وكراهة الصلاة مع مدافعة الاخبثين.
باب: جب کھانا سامنے آ جائے اور اس کے کھانے کا قصد ہو تو بغیر کھائے نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 560 ترقیم شاملہ: -- 1247
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَزْرَةَ الْقَاصُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ: قِصَّةَ الْقَاسِمِ.
اسماعیل بن جعفر نے کہا: مجھے ابوحزرہ القاص (یعقوب بن مجاہد) نے عبداللہ بن ابی عتیق سے خبر دی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی اور حدیث میں قاسم کا واقعہ بیان نہ کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1247]
امام صاحب نے اپنے مختلف اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت کی اور اس حدیث میں قاسم کا واقعہ نہیں بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1247]
ترقیم فوادعبدالباقی: 560
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1247 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1247
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
احادیث مذکورہ بالا سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر نماز میں حاضری کے وقت انسان کو کھانا کھانے کی حاجت ہو اور کھانا سامنے موجود ہو یا پیشاب پاخانہ کی حاجت ہو تو پہلے ان ضرورتوں سے فارغ ہونا چاہیے تاکہ دل کی پوری توجہ نماز کی طرف ہو،
اگر یہ ضرورتیں معمولی قسم کی ہوں اور ان کومؤ خر کرنے میں کوئی تکلیف نہ ہو اور ان کا اثر نماز پر نہ پڑتا ہو تو پھر ان کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
2۔
ابن ابی عتیق سے مراد عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمان بن ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔
اور القاسم سے مراد قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد ہے۔
جو مدینہ منورہ کے سات فقہاء میں سے ایک جلیل القدر فقیہ ہیں القاسم حضرت کا بھتیجا ہے لیکن اس کی ماں لونڈی تھی جو عربی نہ تھی اور ابن ابی عتیق ان کے بھتیجے کا بیٹا ہے اور اس کی ماں حرۃ اورعرب تھی۔
فوائد ومسائل:
1۔
احادیث مذکورہ بالا سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر نماز میں حاضری کے وقت انسان کو کھانا کھانے کی حاجت ہو اور کھانا سامنے موجود ہو یا پیشاب پاخانہ کی حاجت ہو تو پہلے ان ضرورتوں سے فارغ ہونا چاہیے تاکہ دل کی پوری توجہ نماز کی طرف ہو،
اگر یہ ضرورتیں معمولی قسم کی ہوں اور ان کومؤ خر کرنے میں کوئی تکلیف نہ ہو اور ان کا اثر نماز پر نہ پڑتا ہو تو پھر ان کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
2۔
ابن ابی عتیق سے مراد عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمان بن ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے۔
اور القاسم سے مراد قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ مراد ہے۔
جو مدینہ منورہ کے سات فقہاء میں سے ایک جلیل القدر فقیہ ہیں القاسم حضرت کا بھتیجا ہے لیکن اس کی ماں لونڈی تھی جو عربی نہ تھی اور ابن ابی عتیق ان کے بھتیجے کا بیٹا ہے اور اس کی ماں حرۃ اورعرب تھی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1247]
عبد الله بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق