صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب الدليل على ان من مات على التوحيد دخل الجنة قطعا
باب: موحد قطعی جنتی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 30 ترقیم شاملہ: -- 146
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذًا ، يَقُولُ: دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.
زائدہ (بن قدامہ) نے ابوحصین سے، انہوں نے اسود بن ہلال سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، میں نے آپ کو جواب دیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا جانتے ہو لوگوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟ ...“ پھر ان (سابقہ راویوں) کی حدیث کی طرح (حدیث سنائی۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 146]
اسود رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا جانتے ہو اللہ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟“ پھر اوپر والی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 146]
ترقیم فوادعبدالباقی: 30
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه فى الحديث السابق برقم (144)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
الأسود بن هلال المحاربي ← معاذ بن جبل الأنصاري