صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب ما يقول إذا دخل المسجد:
باب: مسجد میں جانے کی دعا کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 713 ترقیم شاملہ: -- 1653
وحَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ ، أَوْ عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
(سلیمان بن بلال کے بجائے) عمارہ بن غزیہ نے ربیعہ بن عبدالرحمان سے روایت کی، انہوں نے عبدالملک بن سعید بن سوید انصاری سے، انہوں نے حضرت ابوحمید یا حضرت ابواسید رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1653]
امام مسلم دوسرے استاد سے بھی یہی روایت نقل کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1653]
ترقیم فوادعبدالباقی: 713
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1653 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1653
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں داخلہ کے وقت باب رحمت کھولنے کی دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ رحمت کا لفظ عام طور پر قرآن وحدیث میں اُخروی اور دینی روحانی انعامات واحسانات کے لیے استعمال ہوا ہے اور مسجد دینی روحانی اور اُخروی نعمتوں کے حصول کی جگہ ہے اور مسجد سے نکلتے وقت اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل و کرم یعنی رزق،
مال و دولت میں برکت کی درخواست کرنے کی تعلیم دی ہے کیونکہ فضل کا لفظ رزق مال و دولت کی دادودہش اور ان میں فراوانی کے لیے استعمال ہوا ہے اور نماز جمعہ کے پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
﴿وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ﴾ زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو۔
تو گویا مسجد سے باہر کی دنیا کے لیے یہی مناسب ہے کہ انسان حصول رزق کی تگ ودود میں مصروف ہو جائے اصل مقصد یہ ہے انسان مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر کہیں بھی اور کسی وقت بھی بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غافل نہ ہو ہر جگہ اس کی سائلانہ توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو۔
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں داخلہ کے وقت باب رحمت کھولنے کی دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ رحمت کا لفظ عام طور پر قرآن وحدیث میں اُخروی اور دینی روحانی انعامات واحسانات کے لیے استعمال ہوا ہے اور مسجد دینی روحانی اور اُخروی نعمتوں کے حصول کی جگہ ہے اور مسجد سے نکلتے وقت اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل و کرم یعنی رزق،
مال و دولت میں برکت کی درخواست کرنے کی تعلیم دی ہے کیونکہ فضل کا لفظ رزق مال و دولت کی دادودہش اور ان میں فراوانی کے لیے استعمال ہوا ہے اور نماز جمعہ کے پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
﴿وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ﴾ زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرو۔
تو گویا مسجد سے باہر کی دنیا کے لیے یہی مناسب ہے کہ انسان حصول رزق کی تگ ودود میں مصروف ہو جائے اصل مقصد یہ ہے انسان مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر کہیں بھی اور کسی وقت بھی بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غافل نہ ہو ہر جگہ اس کی سائلانہ توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1653]
عبد الرحمن بن سعد الساعدي ← مالك بن ربيعة الساعدي