صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب جواز النافلة قائما وقاعدا وفعل بعض الركعة قائما وبعضها قاعدا:
باب: نوافل کا کھڑے بیٹھے یا ایک رکعت میں کچھ کھڑے اور کچھ بیٹھے جائز ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 730 ترقیم شاملہ: -- 1701
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ شَاكِيًا بِفَارِسَ، فَكُنْتُ أُصَلِّي قَاعِدًا، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِك عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
شعبہ نے بدیل سے حدیث سنائی، انہوں نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں فارس (ایران) میں بیمار تھا، اس لیے بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا۔ میں نے اس کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو لمبا وقت کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے۔ آگے (اسی طرح) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1701]
عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں کہ میں فارس میں بیمار تھا اور بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا، میں نے اس کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے، اور حدیث مکمل بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1701]
ترقیم فوادعبدالباقی: 730
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1701 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1701
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل بیان کرنے سے یہ مقصد تھا کہ ضرورت اور مجبوری کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھی جا سکتی ہے اگر بیٹھ کر نماز نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز نہ پڑھتے جمہور آئمہ کے نزدیک سنن و نوافل بیٹھ کر پڑھنا جائز ہیں اگر کوئی شخص قیام کی قدرت نہیں رکھتا یا کسی عذر یا مجبوری کی بنا پر سنن و نوافل بیٹھ کر پڑھتا ہے تو اس کے اجرو ثواب میں کمی نہیں ہو گی اور اگر قدرت کے باوجود بیٹھ کر پڑھتا ہے تو اس کو آدھا ثواب ملے گا۔
فرض نماز قدرت کے باوجود بیٹھ کر پڑھے گا تو نماز نہیں ہو گی کیونکہ قیام فرض ہے کسی عذر اور مجبوری کے سوا اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل بیان کرنے سے یہ مقصد تھا کہ ضرورت اور مجبوری کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھی جا سکتی ہے اگر بیٹھ کر نماز نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز نہ پڑھتے جمہور آئمہ کے نزدیک سنن و نوافل بیٹھ کر پڑھنا جائز ہیں اگر کوئی شخص قیام کی قدرت نہیں رکھتا یا کسی عذر یا مجبوری کی بنا پر سنن و نوافل بیٹھ کر پڑھتا ہے تو اس کے اجرو ثواب میں کمی نہیں ہو گی اور اگر قدرت کے باوجود بیٹھ کر پڑھتا ہے تو اس کو آدھا ثواب ملے گا۔
فرض نماز قدرت کے باوجود بیٹھ کر پڑھے گا تو نماز نہیں ہو گی کیونکہ قیام فرض ہے کسی عذر اور مجبوری کے سوا اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1701]
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق