🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب صلاة الاوابين حين ترمض الفصال:
باب: اوابین (چاشت) کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں تپش محسوس کریں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 748 ترقیم شاملہ: -- 1747
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ قُبَاءَ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَقَالَ: " صَلَاةُ الأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ ".
ہشام بن ابی عبداللہ نے کہا: ہمیں قاسم شیبانی نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل قباء کے پاس تشریف لائے، وہ لوگ (اس وقت) نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے فرمایا: «أَوَّابِينَ» کی نماز اونٹ کے دودھ چھڑائے جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے کے وقت (پر ہوتی) ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1747]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل قباء کے پاس اس وقت پہنچے جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: توبہ کرنے والوں کی نماز کا وقت وہ ہے جبکہ اونٹوں کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1747]
ترقیم فوادعبدالباقی: 748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥القاسم بن عوف الشيباني
Newالقاسم بن عوف الشيباني ← زيد بن أرقم الأنصاري
ضعيف الحديث
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← القاسم بن عوف الشيباني
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1747 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1747
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اَوَّابین کی نماز کا وقت وہ ہے جبکہ لوگ راحت وآرام کے لیے مائل ہو چکے ہوتے ہیں یعنی زوال سے کچھ پہلے سورج کے طلوع ہونے سے لے کر زوال شمس تک جو نماز پڑھی جاتی ہے۔
وقت کے لحاظ سے اس کے مختلف نام ہیں،
سورج کے اچھی طرح طلوع ہونے کے بعد اشراق،
خاصا بلند ہونے پر ضحیٰ (چاشت)
اور زوال سے کچھ وقت پہلے صَلٰوۃُ الْاَوَّابِیْن چونکہ یہ راحت وسکون اور آرام کا وقت ہے اس لیے اس کو افضل اور بہتر قرار دیا گیا ہے۔
کیونکہ انسان اپنی راحت و آرام کو قربان کر کے یہ نماز پڑھتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1747]

Sahih Muslim Hadith 1747 in Urdu