صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه:
باب: نماز اور دعائے شب۔
ترقیم عبدالباقی: 766 ترقیم شاملہ: -- 1805
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَشْرَعَةٍ، فَقَالَ: أَلَا تُشْرِعُ يَا جَابِرُ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَشْرَعْتُ، قَالَ: ثُمَّ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، وَوَضَعْتُ لَهُ وَضُوءًا، قَالَ: " فَجَاءَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ خَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، فَقُمْتُ خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم پانی کے ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپ نے فرمایا: ”جابر! کیا تم سواری کو پلانے کے لیے گھاٹ پر نہیں اترو گے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بھی) گھاٹ پر اترے اور میں بھی اترا، پھر آپ ضرورت کے لیے تشریف لے گئے اور میں نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھ دیا، آپ واپس آئے اور وضو فرمایا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور ایک کپڑے میں نماز پڑھی جس کے دونوں کنارے آپ نے مخالف سمتوں میں ڈال رکھے تھے (دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر ڈالا) میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کر لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1805]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، ہم ایک گھاٹ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جابر! کیا تم پانی پلانے کے لئے گھاٹ پر نہیں اترو گے؟ ”میں نے کہا: کیوں نہیں! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور میں نے پانی پلانا شروع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پانی رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور وضو فرمایا، پھر اٹھ کر نماز پڑھنی شروع کر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخالف اطرف پرڈالا ہوا ٹھا یعنی دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان سے پکڑ کر مجھے اپنے دائیں کر لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1805]
ترقیم فوادعبدالباقی: 766
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1805 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1805
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
مَشْرَعَةٌ:
پانی کی گھاٹ۔
اَلاَ تَشْرَعُ:
کیا تم اونٹوں کو پانی پینے کے لیے گھاٹ پر نہیں لے جاؤ گے۔
فوائد ومسائل:
اگرمقتدی ایک ہو تو اسے امام کے دائیں کھڑا ہونا ہوتا ہے اگر وہ غلط جگہ پر کھڑا ہو جائے تو امام اسے پکڑ کر اپنے دائیں کھڑا کرے گا اور اس فعل سے امام یا مقتدی کی نماز متاثر نہیں ہو گی۔
مفردات الحدیث:
مَشْرَعَةٌ:
پانی کی گھاٹ۔
اَلاَ تَشْرَعُ:
کیا تم اونٹوں کو پانی پینے کے لیے گھاٹ پر نہیں لے جاؤ گے۔
فوائد ومسائل:
اگرمقتدی ایک ہو تو اسے امام کے دائیں کھڑا ہونا ہوتا ہے اگر وہ غلط جگہ پر کھڑا ہو جائے تو امام اسے پکڑ کر اپنے دائیں کھڑا کرے گا اور اس فعل سے امام یا مقتدی کی نماز متاثر نہیں ہو گی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1805]
Sahih Muslim Hadith 1805 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري