صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب الدعاء في صلاة الليل وقيامه:
باب: نماز اور دعائے شب۔
ترقیم عبدالباقی: 771 ترقیم شاملہ: -- 1813
وحَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِي، وَقَالَ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَقَالَ: وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ، وَقَالَ: وَإِذَا سَلَّمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ.
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے اپنے چچا الماجثون (یعقوب بن ابی سلمہ) سے اور انہوں نے (عبدالرحمان) اعرج سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر دعا پڑھتے: ”وجہت وجهي“ اس میں (کے بجائے) ”أنا من المسلمين“ اور ”میں اطاعت و فرمانبرداری میں اولین (مقام پر فائز) ہوں“ کے الفاظ ہیں اور کہا: جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو ”سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولك الحمد“ کہتے اور صورہ (اس کی صورت گری کی) کے بعد ”فأحسن صورها“ (اس کو بہترین شکل و صورت عنایت فرمائی) کے الفاظ کہے اور کہا: جب سلام پھیرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ“ ”اے اللہ! بخش دے جو میں نے پہلے کیا۔“ حدیث کے آخر تک اور انہوں نے ”تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1813]
امام صاحب یہی روایت دوسرے استاد کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تو اَللہُ اَکْبَر کہنے کے بعد، (وَجَّهْتُ وَجْهِيَ) دعا پڑھتے۔اور اس میں (اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْن) کی بجائے (اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْن) ہے کہ میں سب سے پہلے اطاعت گزار ہوں اور میں اطاعت وفرمانبرداری میں پہلے مقام ومرتبہ پر فائز ہوں۔ اوراس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو (سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہتے اور (صَوَّرَهُ) کے بعد (فَاَحْسَنَ صُوَرَهُ) (اس کو بہترین شکل وصورت عنایت فرمائی) اور اس میں ہے کہ (اللهم اغْفِرْلِيْ مَاقَدَّمْتُ) والی دعا سلام پھیرنے کے بعد پڑھتے۔ تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1813]
ترقیم فوادعبدالباقی: 771
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1813 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1813
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
احادیث مذکورہ بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں مختلف دعائیں فرماتے تھے اور حدیثِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی طویل دعا بھی تکبیرِ تحریمہ کے بعد پڑھتے تھے اس لیے احناف کا یہ کہنا کہ یہ تکبیرتحریمہ سے پہلے شروع کی جائے گی درست نہیں ہے اور اس حدیث میں یہ قید بھی نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا رات کی نماز میں پڑھتے تھے۔
اگرچہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو رات کی نماز کی احادیث میں ہی بیان کیا ہے۔
فوائد ومسائل:
احادیث مذکورہ بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آغاز میں مختلف دعائیں فرماتے تھے اور حدیثِ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی طویل دعا بھی تکبیرِ تحریمہ کے بعد پڑھتے تھے اس لیے احناف کا یہ کہنا کہ یہ تکبیرتحریمہ سے پہلے شروع کی جائے گی درست نہیں ہے اور اس حدیث میں یہ قید بھی نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا رات کی نماز میں پڑھتے تھے۔
اگرچہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو رات کی نماز کی احادیث میں ہی بیان کیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1813]
يعقوب بن أبي سلمة التيمي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج