🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب نزول السكينة لقراءة القرآن:
باب: قرأت قرآن کی برکت سے تسکین کا اترنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 796 ترقیم شاملہ: -- 1859
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ، ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَى فَقَرَأَ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، قَالَ أُسَيْدٌ: فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى، فَقُمْتُ إِلَيْهَا، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي، فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي، إِذْ جَالَتْ فَرَسِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ، قَالَ: فَقَرَأْتُ، ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ، قَالَ: فَانْصَرَفْتُ، وَكَانَ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا، خَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ، فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّى مَا أَرَاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ كَانَتْ تَسْتَمِعُ لَكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے باڑے میں قراءت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، انہوں نے پھر پڑھا، وہ دوبارہ بدکا، پھر پڑھا، وہ پھر بدکا۔ اسید رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے خوف پیدا ہوا کہ وہ (میرے بیٹے) یحییٰ کو روند ڈالے گا، میں اٹھ کر اس کے پاس گیا تو اچانک چھتری جیسی کوئی چیز میرے سر پر تھی، اس میں کچھ چراغوں جیسا تھا، وہ فضا میں بلند ہو گئی حتیٰ کہ مجھے نظر آنا بند ہو گئی، کہا: میں صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس اثنا میں کہ کل میں آدھی رات کے وقت اپنے باڑے میں قراءت کر رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔" میں نے عرض کی: میں پڑھتا رہا، پھر اس نے دوبارہ اچھل کود کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔" میں نے کہا: میں نے قراءت جاری رکھی، اس نے کچھ بدک کر چکر لگانے شروع کر دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔" میں نے کہا: پھر میں نے چھوڑ دیا۔ (میرا بیٹا) یحییٰ اس کے قریب تھا، میں ڈر گیا کہ وہ اسے روند دے گا۔ تو میں نے چھتری جیسی چیز دیکھی، اس میں چراغوں کی طرح کی چیزیں تھیں، وہ فضا میں بلند ہوئی حتیٰ کہ مجھے نظر آنی بند ہو گئی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ فرشتے تھے جو تمہاری قراءت سن رہے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو لوگ صبح کو دیکھ لیتے، وہ ان سے اوجھل نہ ہوتے۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1859]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک رات اپنےکھلیان میں قراءت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا یا گھوڑی کودنے لگی، وہ پڑھتے رہے، پھر وہ دوبارہ کودنے لگی، وہ پڑھتے رہے وہ پھرگردش کرنے لگی، اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں مجھے خوف پیدا ہوا کہ وہ (میرے بیٹے) یحییٰ کو روند ڈالے گی، میں اٹھ کر گھوڑی کے پاس گیا تو اچانک میرے سر پر سائبان جیسی کوئی چیز تھی، اس میں چراغوں جیسی چیزیں تھیں، وہ سائبان فضا میں چڑھ گیا تھا حتیٰ کہ مجھے نظر آنا بند ہو گیا، میں صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس اثنا میں کہ میں کل آدھی رات اپنے کھلیان میں قراءت کر رہا تھا کہ اچانک میری گھوڑی چکر لگانے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: اے ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔ میں نے کہا میں نےقراءت جاری رکھی، پھر وہ گھومی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا: اے ابن حضیر! پڑھتے رہتے۔ میں نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اے ابن حضیر پڑھتے رہتے میں نے کہا، میں ہٹ گیا، قراءت سے باز آ گیا۔ (میرا بیٹا) یحییٰ اس کے قریب تھا، میں ڈر گیا کہ وہ اسے روند دے گی تو میں نے سائبان جیسی چیز دیکھی، اس میں چراغوں جیسی چیزیں تھیں، وہ فضا میں چڑھنے لگی حتیٰ کہ میری نظروں سے اوجھل ہوگئی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے تھے، تیری قراءت سن رہے تھے، اور اگر تم پڑھتے رہتے تو لوگ صبح ان کو دیکھ لیتے، وہ ان سے اوجھل نہ ہوتے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1859]
ترقیم فوادعبدالباقی: 796
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عبد الله بن خباب الأنصاري
Newعبد الله بن خباب الأنصاري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← عبد الله بن خباب الأنصاري
ثقة مكثر
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← يزيد بن الهاد الليثي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥الحجاج بن الشاعر، أبو محمد
Newالحجاج بن الشاعر ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← الحجاج بن الشاعر
ثقة حافظ له تصانيف
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1859 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1859
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض حضرات نے سورہ کہف پڑھنے والا حضرت اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قرار دیا ہے لیکن بخاری شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورہ بقرہ پڑھ رہے تھے،
حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھی یہ واقعہ پیش آیا ہے لیکن وہ بھی سورہ بقرہ پڑھ رہے تھے اس لیے سورۃ کہف پڑھنے والا کوئی تیسرا صحابی ہے یا انھوں نے بقرہ کے بعد سورہ کہف پڑھی ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے فرشتوں کو دیکھنا ممکن ہے محال نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1859]