الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
43. باب فضل الفاتحة وخواتيم سورة البقرة والحث على قراءة الآيتين من آخر البقرة:
باب: سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت اور ان دونوں آیتوں کو پڑھنے کی ترغیب۔
ترقیم عبدالباقی: 806 ترقیم شاملہ: -- 1877
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنْفِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ، فُتِحَ الْيَوْمَ، لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ، فَقَالَ: هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الأَرْضِ، لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: " أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ، فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ ".
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انہوں نے اوپر سے ایسی آواز سنی جیسی دروازہ کھلنے کی ہوتی ہے، تو انہوں نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور کہا: آسمان کا یہ دروازہ آج ہی کھولا گیا ہے، آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا، اس سے ایک فرشتہ اترا، تو انہوں نے کہا: یہ ایک فرشتہ آسمان سے اترا ہے، یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا، اس فرشتے نے سلام کیا اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے) کہا: آپ کو دو نور ملنے کی خوشخبری ہو جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: (ایک) فاتحہ الکتاب (سورہ فاتحہ) اور (دوسری) سورہ بقرہ کی آخری آیات۔ آپ ان دونوں میں سے کوئی جملہ بھی نہیں پڑھیں گے مگر وہ آپ کو عطا کر دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1877]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی اثناء میں انھوں نے اوپر سے آواز سنی اور اپنا سر اوپر اٹھایا اور کہا: آسمان کا یہ دروازہ آج ہی کھولا گیا ہے، آج کے سوا کبھی نہیں کھلا گیا، تو اس سے ایک فرشتہ اترا تو جبرائیل علیہ السلام سے کہا یہ ایک فرشتہ زمین پر اترا ہے آج سے پہلے کبھی نہیں اترا، اس فرشتے نے سلام عرض کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نور وں کی بشارت ہو، جو آپ ہی کو دیئے گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے، ایک فاتحہ الکتاب اور دوسرا سورہ بقرہ کی آخری آیات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے جو جملہ بھی پڑھیں گے، اس میں مانگی ہوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملے گی۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1877]
ترقیم فوادعبدالباقی: 806
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1877 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1877
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سورۃ فاتحۃ بقرہ کی آخری آیات کو نور سے تعبیر کیا گیا ہے جس کی روشنی میں انسان اپنا سفر طے کرتا ہے سورۃ فاتحہ دین جو ضابطہ حیات اور روشن زندگی کا نام ہے میں اس کا خلاصہ اور نچوڑ بیان کیا گیا ہے اور اس کی روشنی میں چل کر ہی انسان کامیابی اور کامرانی سے صراط مستقیم پر گامزن ہو کر مقصود زندگی حاصل کرسکتا ہے اسی طرح سورۃ بقرہ کی آخری آیات میں ارکان ایمان کا بیان ہے اور اپنی کامیابی و کامرانی کے لیے دعا ہے اور ہر مطلوب و محبوب چیز کا سوال ہے۔
فوائد ومسائل:
سورۃ فاتحۃ بقرہ کی آخری آیات کو نور سے تعبیر کیا گیا ہے جس کی روشنی میں انسان اپنا سفر طے کرتا ہے سورۃ فاتحہ دین جو ضابطہ حیات اور روشن زندگی کا نام ہے میں اس کا خلاصہ اور نچوڑ بیان کیا گیا ہے اور اس کی روشنی میں چل کر ہی انسان کامیابی اور کامرانی سے صراط مستقیم پر گامزن ہو کر مقصود زندگی حاصل کرسکتا ہے اسی طرح سورۃ بقرہ کی آخری آیات میں ارکان ایمان کا بیان ہے اور اپنی کامیابی و کامرانی کے لیے دعا ہے اور ہر مطلوب و محبوب چیز کا سوال ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1877]
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي