صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
53. باب لا تتحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها:
باب: سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز میں جلدی نہ کرو۔
ترقیم عبدالباقی: 833 ترقیم شاملہ: -- 1931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: وَهِمَ عُمَرُ، إِنَّمَا " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّى طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا ".
وہیب نے کہا: ہم سے عبداللہ بن طاوس نے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (طاوس) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہم لاحق ہوا ہے (کہ وہ ہر صورت عصر کے بعد نماز پڑھنے کو قابل سزا سمجھتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ سورج کے طلوع یا اس کے غروب کے وقت نماز پڑھنے کا قصد کیا جائے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1931]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو وہم لاحق ہوا ہے (کہ وہ عصر کے بعد نماز پڑھنے سے روکتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو بس اس بات سے منع فرمایا ہے کہ انسان سورج کے طلوع یا اس کے غروب کے وقت نماز پڑھنے کا قصد کرے۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1931]
ترقیم فوادعبدالباقی: 833
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1931 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1931
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نظریہ یہ تھا کہ عصر کے بعد نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں عصر کے بعد دورکعات پڑھا کرتے تھے اور غروب کے وقت قصدوارادہ سے اور عمداً نماز پڑھنا جائز نہیں ہے،
اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کرتے تھے کیونکہ وہ فرماتے تھے،
اگر اس وقت لوگوں کو اجازت دے دی گئی تو وہ غروب کے وقت میں نماز پڑھنے لگیں گے۔
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نظریہ یہ تھا کہ عصر کے بعد نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں عصر کے بعد دورکعات پڑھا کرتے تھے اور غروب کے وقت قصدوارادہ سے اور عمداً نماز پڑھنا جائز نہیں ہے،
اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کرتے تھے کیونکہ وہ فرماتے تھے،
اگر اس وقت لوگوں کو اجازت دے دی گئی تو وہ غروب کے وقت میں نماز پڑھنے لگیں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1931]
Sahih Muslim Hadith 1931 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق