صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب الدعاء في الاستسقاء:
باب: نماز استسقاء کے موقع پر دعا مانگنا۔
ترقیم عبدالباقی: 897 ترقیم شاملہ: -- 2079
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي إسحاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ قَالَ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا "، قَالَ فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ إِلَّا تَفَرَّجَتْ، حَتَّى رَأَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ وَسَالَ وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا، وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا أَخْبَرَ بِجَوْدٍ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو خشک سالی نے آ لیا۔ اسی اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن منبر پر لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک بدوی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مال مویشی ہلاک ہو گئے، بال بچے بھوکے مرنے لگے۔ (آگے) اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ اور اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے ارد گرد (برسا) ہمارے اوپر نہیں۔“ کہا: اور آپ اپنے ہاتھ سے جس طرف بھی اشارہ کرتے تھے اسی طرف سے بادل چھٹ جاتے تھے حتیٰ کہ میں نے مدینہ منورہ کو (زمین کے) خالی ٹکڑے کے مانند دیکھا اور وادی قناۃ ایک ماہ تک بہتی رہی اور کسی طرف سے بھی کوئی شخص نہیں آیا مگر اس نے موسلادھار بارش کی خبر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2079]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ کو خشک سالی کا شکار ہو گئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن منبر پر لوگوں کوخطاب فرما رہے تھے توایک بدوی کھڑا ہوا اور اس نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم : مویشی ہلاک ہوگئے، بال بچے بھوکے مرنے لگے۔۔۔ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے اور اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ا ے اللہ! ہمارے ارد گرد ہمارے اوپر نہیں۔“ اور آپ جس طرف اشارہ کرتے بادل چھٹ جاتے حتیٰ کہ میں نے مدینہ منورہ کو گڑھا کی طرح دیکھا اور وادی قناۃ ایک ماہ تک بہتی رہی اور جدھر سے بھی کوئی شخص آیا اس نے موسلادھار بارش کی اطلاع دی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2079]
ترقیم فوادعبدالباقی: 897
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2079 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2079
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
سَنَة:
قحط،
خشک سالی۔
(2)
تَفَرَّجَتْ:
بادل چھٹ گئے،
آسمان صاف ہو گیا۔
(3)
مِثْلِ الْجَوْبَة:
مدینہ گڑھا کی طرح ہو گیا کہ مدینہ کے اوپر سے بادل چھٹ گئے،
اور گولائی میں اردگرد برسنے لگے۔
(4)
جَوْد:
موسلا دھار بارش۔
مفردات الحدیث:
(1)
سَنَة:
قحط،
خشک سالی۔
(2)
تَفَرَّجَتْ:
بادل چھٹ گئے،
آسمان صاف ہو گیا۔
(3)
مِثْلِ الْجَوْبَة:
مدینہ گڑھا کی طرح ہو گیا کہ مدینہ کے اوپر سے بادل چھٹ گئے،
اور گولائی میں اردگرد برسنے لگے۔
(4)
جَوْد:
موسلا دھار بارش۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2079]
إسحاق بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري