علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب في الصبر على المصيبة عند الصدمة الاولى:
باب: مصیبت کے فوری بعد صبر ہی حقیقی صبر ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 926 ترقیم شاملہ: -- 2141
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو . ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالُوا جَمِيعًا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بِقِصَّتِهِ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ، " مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِامْرَأَةٍ عِنْدَ قَبْرٍ ".
خالد بن حارث، عبدالملک بن عمرو، اور عبدالصمد سب نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ عثمان بن عمر کے سنائے گئے واقعے کے مطابق اس کی حدیث کی طرح حدیث سنائی۔ اور عبدالصمد کی حدیث میں (یہ جملہ) ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے پاس (بیٹھی ہوئی) ایک عورت کے پاس سے گزرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2141]
امام صاحب یہی روایت شعبہ ہی کی سند سے اپنے کئی اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ عبدالصمد کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس بیٹھی ہوئی عورت کے پاس سے گزرے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2141]
ترقیم فوادعبدالباقی: 926
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2141 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2141
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رہن سہن اور بود باش اور لباس عام ساتھیوں کی طرح تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مخصوص اور امتیازی لباس نہ تھا نہ دنیا کے چوہدریوں کی طرح آپ کے دروازے پر دربان بیٹھتے تھے اس لیے ناواقف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہیں سکتا تھا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رہن سہن اور بود باش اور لباس عام ساتھیوں کی طرح تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی مخصوص اور امتیازی لباس نہ تھا نہ دنیا کے چوہدریوں کی طرح آپ کے دروازے پر دربان بیٹھتے تھے اس لیے ناواقف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہیں سکتا تھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2141]
Sahih Muslim Hadith 2141 in Urdu
عبد الصمد بن عبد الوارث التميمي ← شعبة بن الحجاج العتكي