یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب الميت يعذب ببكاء اهله عليه:
باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 929 ترقیم شاملہ: -- 2151
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ : كُنَّا فِي جَنَازَةِ أُمِّ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَنُصَّ رَفْعَ الْحَدِيثِ عَنْ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا نَصَّهُ أَيُّوبُ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَحَدِيثُهُمَا أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ عَمْرٍ.
عمرو بن دینار نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ام ابان کے جنازے میں (حاضر) تھے۔۔۔ اور مذکورہ حدیث بیان کی، انہوں (عمرو) نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے (آگے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت مرفوع ہونے کی صراحت نہیں کی جس طرح ایوب اور ابن جریج نے اس کی صراحت کی ہے اور ان دونوں کی حدیث سے زیادہ مکمل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2151]
عمرو، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”ہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اُم ابان کے جنازے میں حاضر تھے۔“ اور مذکورہ حدیث بیان کی، لیکن عمرو نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کو صراحتاً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کیا، جبکہ ایوب اور ابن جریج نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کی صراحت کی ہے اور ان دونوں کی حدیث سے زیادہ کامل ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2151]
ترقیم فوادعبدالباقی: 929
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 2151 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي